اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک اہم فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہراسانی کو برداشت کرنے والا ادارہ اپنے تعلیمی مشن کی نفی کرتا ہے اور خواتین اساتذہ کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانا ایک سنگین زیادتی ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق خواتین اساتذہ کو ہراسانی کی صورت میں غیر قانونی عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو قانون، اخلاقیات اور وقار کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے کہا کہ ہر تعلیمی ادارے میں ہراسانی کے خلاف واضح پالیسی ہونی چاہیے اور اعلیٰ حکام تک رپورٹنگ کا نظام موجود ہو۔ سپریم کورٹ نے ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پانچ سالہ سروس کی ضبطی کی سزا بحال کردی۔
فیصلے کی کاپی وفاقی وزیر تعلیم، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، سیکرٹریز اسکول و ہائر ایجوکیشن، اور وفاقی و صوبائی محتسب کو بھیجی جائے گی تاکہ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزارتِ تعلیم کو ہدایت دی گئی کہ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف ضابطہ اخلاق نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے۔ ان ہاؤس انکوائری کمیٹی کی تشکیل کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ متاثرہ خواتین اساتذہ براہِ راست شکایت درج کروا سکیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ غیر متعلقہ تبصرے، جنسی نوعیت کے لطیفے یا پیغامات، آوازیں کسنا اور ملازمت کے فوائد کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات کام کی جگہ کے وقار کے منافی ہیں۔ بلااجازت جسمانی رابطے کی کوششیں اور غیر محفوظ ماحول پیدا کرنا بھی غیر قانونی ہے۔
فیصل آباد کے گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سینٹر میں گریڈ سترہ کے کامران خان پر ہراسانی کے الزامات تھے۔


