ہومUncategorized’اگلی آئنسٹائن‘ کہلانے والی نوجوان سائنسدان دنیا بھر کی توجہ کا مرکز

’اگلی آئنسٹائن‘ کہلانے والی نوجوان سائنسدان دنیا بھر کی توجہ کا مرکز

شکاگو (لارڈ میڈیا): امریکا کی نظریاتی طبیعیات دان سبرینا گونزالیز پاسٹرسکی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ انہیں کششِ ثقل اور کوانٹم میکینکس کے درمیان تعلق جیسے بڑے سائنسی سوالات پر کام کرنے کی بنا پر ‘اگلی آئنسٹائن’ بھی کہا جاتا ہے۔

سبرینا 1993 میں کیوبن نژاد امریکی والدہ اور پولش نژاد امریکی والد کے ہاں پیدا ہوئیں۔ 12 سال کی عمر میں انہوں نے سنگل انجن طیارہ تیار کرنا شروع کیا اور 14 سال کی عمر میں خود اسے اڑا کر ایک منفرد کارنامہ انجام دیا۔

انہوں نے الینوائے میتھمیٹکس اینڈ سائنس اکیڈمی میں تعلیم حاصل کی اور ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر اور بلیو اوریجن میں بطور انٹرن کام کیا۔ 2010 میں انہوں نے ایم آئی ٹی میں داخلے کے لیے درخواست دی اور اپنی صلاحیتوں کو نمایاں کیا۔

ایم آئی ٹی سے طبیعیات میں 5.0 کا مکمل گریڈ پوائنٹ ایوریج حاصل کیا اور ادارے میں پہلی خاتون بنیں جنہوں نے مکمل نمبر حاصل کیے۔ بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی اور ‘اسپن میموری ایفیکٹ’ پر تحقیق کی۔

ان کی تحقیق کو اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی زندگی کے آخری مقالوں میں حوالہ دیا۔ ناسا اور بلیو اوریجن سے کام کی پیشکشوں کو ٹھکرا کر کینیڈا کے تحقیقی ادارے پیریمیٹر انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہوئیں۔

2023 میں ان کے منصوبے کو 80 لاکھ امریکی ڈالر کی گرانٹ ملی۔ سبرینا فزکس کے بڑے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی جستجو میں مصروف ہیں اور جدید دور کے نمایاں سائنس دانوں میں شمار ہوتی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں