بیجنگ (شِنہوا) چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی حامی علیحدگی پسند قوتیں ملک کو تقسیم کرنے یا قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گی تو ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
چین کی ریاستی کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کے ترجمان چھن بن ہوا نے پریس کانفرنس میں تائیوان کے حکام کی جانب سے حال ہی میں نافذ کئے گئے قومی اتحاد اور ترقی کے فروغ کے قانون پر تنقید سے متعلق ایک سوال کا جواب دیا۔
چھن بن ہوا نے کہا کہ اس قانون میں واضح طور پر نسلی امور کے شعبے میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانونی اقدامات کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون چین کے قومی حالات، قانونی اصولوں اور بین الاقوامی روایات سے ہم آہنگ ہے۔
چھن بن ہوا نے کہا کہ یہ قانون قومی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے ایک جائز اور ضروری اقدام ہے۔
ترجمان نے کہا کہ تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کی انتظامیہ نے بارہا بلاجواز تنقید کرکے اس قانون کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے جس کا مقصد قوم سے غداری، ملک کو تقسیم کرنے، آبنائے تائیوان کے دونوں جانب تعلقات کو نقصان پہنچانے اور باہمی روابط کو محدود کرنے کے لئے بہانے تراشنا ہے۔
چھن بن ہوا نے کہا کہ ڈی پی پی کی انتظامیہ کسی بھی حربے کا استعمال کرے، وہ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی کہ آبنائے تائیوان کے دونوں کنارے ایک ہی چین کا حصہ ہیں اور نہ ہی وہ اس تاریخی عمل کو روک سکتی ہے کہ بالآخر مادر وطن کا دوبارہ اتحاد ضرور ہوگا۔


