ہومتازہ ترین"اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" عالمی امن کا نیا باب

"اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” عالمی امن کا نیا باب

بین الاقوامی سیاست میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو محض سفارتی معاہدے نہیں بلکہ تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ "اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (Islamabad Memorandum of Understanding)” بھی6 بظاہر ایسا ہی ایک لمحہ دکھائی دیتا ہے۔ اس معاہدے میں جنگ بندی، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، اقتصادی تعاون، پابندیوں کے بتدریج خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری تنازع کے سیاسی حل کے لیے مذاکرات کا ایک جامع فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔

اگر یہ عمل کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو یہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔

دشمنی کی طویل داستان امریکہ اور ایران کے تعلقات گزشتہ تقریباً نصف صدی سے عدم اعتماد، پابندیوں، پراکسی جنگوں اور سفارتی کشیدگی کی علامت رہے ہیں۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد پیدا ہونے والی خلیج وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی گئی۔ افغانستان، عراق، شام، لبنان، یمن اور خلیج کے کئی تنازعات میں دونوں ممالک بالواسطہ یا بلاواسطہ ایک دوسرے کے مخالف کیمپوں میں کھڑے رہے۔ اسی پس منظر میں یہ حقیقت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ دونوں ممالک نے ایک ایسے دستاویز پر اتفاق کیا ہے جس میں نہ صرف جنگ کے خاتمے بلکہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ عالمی افق پر اس نئی ابھرتی ہوئی مثبت صورتحال نے الحمدللہ اسلام آباد کو ایک نئی سفارتی شناخت عطا کی ہے۔ "اسلام آباد میمورنڈم” کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے ثالث اور ضامن کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مفاہمتی عمل میں پاکستان کی میزبانی اور سفارتی معاونت کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔

اگر یہ معاہدہ اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے تو پاکستان کے لیے بھی یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ ماضی میں پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان رابطوں، افغان امن عمل اور متعدد علاقائی بحرانوں میں پل کا کردار ادا کیا تھا۔ اسلام آباد مفاہمت اس روایت کو ایک نئی جہت دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

معاہدے کے اہم نکات کے حوالے سے اس یادداشت میں کئی اہم نکات شامل ہیں جیسے کہ:

فوری اور مستقل جنگ بندی؛

لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ؛

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت؛

امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ؛

ایران پر عائد پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے کا خاکہ؛

ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی؛

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات اور بین الاقوامی نگرانی؛

ایران کی اقتصادی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد سے عالمی معیشت پر ممکنہ مثبت اثرات آئیں گے۔

دنیا کی تقریباً ایک تہائی سمندری تیل تجارت آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ جب بھی اس آبی گزرگاہ میں کشیدگی بڑھتی ہے، عالمی منڈیوں میں خوف پیدا ہوتا ہے اور توانائی کی قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔

اگر معاہدے کے نتیجے میں ہرمز مکمل طور پر محفوظ اور فعال ہو جاتا ہے تو:

خام تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے؛

عالمی مہنگائی میں کمی آسکتی ہے؛

شپنگ اور انشورنس لاگت کم ہوسکتی ہے؛

ترقی پذیر ممالک کو توانائی کے شعبے میں ریلیف مل سکتا ہے؛

عالمی تجارتی سپلائی چین زیادہ محفوظ ہو سکتی ہے۔

پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال خصوصی طور پر فائدہ مند ہوگی۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید

اس معاہدے کا ایک اہم پہلو لبنان اور دیگر محاذوں پر فوجی کشیدگی کے خاتمے کا اعلان بھی ہے۔ اگر امریکہ اور ایران واقعی براہِ راست تصادم سے پیچھے ہٹتے ہیں تو خطے میں پراکسی تنازعات کی شدت کم ہوسکتی ہے۔

اس کے نتیجے میں

لبنان میں استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں؛

شام میں سیاسی عمل کو تقویت مل سکتی ہے؛

خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوسکتا ہے؛

سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

جہاں تک ایران کے

جوہری اثاثہ جات کے حوالے کا تعلق ہے تو یہ تنازع بطور اصل امتحان ابھی باقی ہے

اگرچہ معاہدے میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، تاہم اصل چیلنج مستقبل کے مذاکرات ہوں گے۔ یورینیم ذخائر، افزودگی کی سطح، بین الاقوامی نگرانی اور پابندیوں کے مستقل خاتمے جیسے مسائل ابھی حل طلب فہرست میں شامل ہیں۔

اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اعتماد کی کمی دوبارہ بحران پیدا کر سکتی ہے۔ لہٰذا اس مفاہمت کی کامیابی کا انحصار آنے والے ساٹھ دنوں کی سفارت کاری پر ہوگا۔

اب سوال یہ ہے کہ مفاہمتی یادداشت دنیا کے لیے کیا پیغام لیکر آئی ہے۔ یہ معاہدہ ایک اہم حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید دنیا میں طاقت کے استعمال سے زیادہ پائیدار نتائج مذاکرات، مفاہمت اور باہمی احترام سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کو "دشمن” قرار دینے والے دو ممالک اگر ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں تو یہ عالمی سیاست کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔ یہ اس تصور کو بھی

تقویت دیتا ہے کہ سفارت کاری، خواہ کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو، جنگ سے بہتر راستہ ہے۔

میری رائے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ابھی حتمی امن معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن یہ یقیناً ایک ایسا دروازہ ہے جو ایک طویل اور خونریز تنازع اور جنگی جنون کے خاتمے کی طرف کھلتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر فریقین اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہیں تو نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پوری دنیا اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکتی ہے۔

شاید تاریخ کے اوراق میں یہ لمحہ اس حقیقت کے طور پر تحریر ہو کہ جب بندوقوں کی گھن گرج کے درمیان مذاکرات کی آواز سنی گئی، اور جب دشمنی کے طویل سفر کے بعد مفاہمت نے ایک نئی راہ متعین کی تو عالمی سیاست اور معیشت کی بے یقینی کا دھارا بفضل تعالٰی

پائیدار امن کی طرف مڑ گیا۔ لہٰذا "امن صرف جنگ کا خاتمہ نہیں، بلکہ اعتماد کے آغاز کا نام ہے”

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں