واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر رضامند ہو جائے گا۔
انہوں نے میری لینڈ میں واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز میں کہا کہ جمعرات سے شروع ہونے والے 60 دن کے اندر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ہم ایسے اقدامات کریں گے جن سے وہ خوش نہیں ہوں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا خیال نہیں کہ معاملہ وہاں تک پہنچے گا۔
ایم او یو کے متن کے مطابق دونوں فریق اس بات کے پابند ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر مذاکرات مکمل کر کے حتمی معاہدے تک پہنچیں اور یہ مدت باہمی رضامندی سے بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کو ہونے والے ایران-امریکہ مذاکرات ملتوی کر دیئے گئے تاہم کسی بھی فریق نے اس کی باضابطہ وجہ نہیں بتائی۔ متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حالیہ حملوں کے جواب میں ایران نے ان مذاکرات سے دستبرداری اختیار کی۔
اسی روز ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی قیادت سے بات کی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پر رضامند ہوں۔
انہوں نے ٹیلی فون پر انٹرویو میں کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اسی دوران امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور اگلے ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں منعقد کیا جائے گا۔


