بیجنگ (شِنہوا) چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ایک جامع تزویراتی شراکت دار کی حیثیت سے چین ہمیشہ معقول اور جائز مطالبات اور اپنی خودمختاری و سلامتی کے تحفظ کے لئے ایران کی کوششوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔
وانگ یی، جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں، نے یہ بات ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہی۔
عراقچی نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے پہلے مرحلے کی صورتحال سے آگاہ کیا اور مذاکرات کو آگے بڑھانے اور معاہدے تک پہنچنے میں چین کے فعال کردار پر دلی شکریہ ادا کیا۔
عراقچی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر موثر انداز میں عملدرآمد ہونا چاہیے جس میں لبنان کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو تزویراتی نکتہ نظر سے دیکھتا ہے اور باہمی اعتماد میں اضافے، مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کو مشترکہ طور پر فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ چین ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے مرحلے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقائق نے ثابت کیا ہے کہ طاقت اور زور مسائل کا حل نہیں جبکہ مکالمہ اور مذاکرات ہی درست انتخاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان اور بین الاقوامی برادری کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور اپنے انداز میں جنگ بندی اور امن کے فروغ کے لئے کام کرتا رہا ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ امن کی امید کی کرن نمودار ہو چکی ہے، تاہم اگلا اہم مرحلہ یہ ہے کہ تمام فریق اپنی ذمہ داریوں پر حقیقی معنوں میں عمل کریں اور مختلف رکاوٹوں کو دور کریں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسئلے کو مناسب طریقے سے حل کیا جانا چاہیے اور بین الاقوامی برادری کے مشترکہ خدشات کا بھی موثر جواب دیا جانا چاہیے۔
وانگ یی نے کہا کہ چین خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مشترکہ علاقائی سلامتی کے لائحہ عمل کی تشکیل کی کوششوں میں ایران کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین ایران کے ساتھ رابطوں اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے اور چین-ایران تعلقات کو مستحکم اور مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و استحکام کے قیام اور فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔


