اسلام آباد (لارڈ میڈیا): قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے مطابق ہر 100 میں سے تقریباً 29 شہری خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
سروے کے مطابق ماہانہ 8,483 روپے کمانے والا شہری غربت کی لکیر سے اوپر شمار ہوتا ہے، جو کہ 30.5 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔
علاقائی اعداد و شمار کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 17.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
صوبائی سطح پر بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ 47 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ پنجاب میں یہ شرح سب سے کم 23.3 فیصد رہی۔ سندھ میں غربت کی شرح 32.6 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 35.3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں مجموعی غربت کی شرح میں 2018-19 کے بعد دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے، جب یہ شرح 21.9 فیصد تھی۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث لاکھوں افراد دوبارہ غربت کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں اور عدم مساوات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ غربت کی پیمائش کا معیار کم از کم ضروری اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت کو قرار دیا گیا ہے۔


