تہران (شِنہوا) ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایران اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر بحری جہاز سے اوسطاً 15 لاکھ سے 20 لاکھ امریکی ڈالر وصول کر رہا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی نے ایرانی پارلیمنٹ کی منصوبہ بندی اور بجٹ کمیٹی کے رکن محسن زنگانیہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ میں ایرانی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر علی نیک زاد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پارلیمنٹ مئی میں اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام و انصرام کے لئے 12 نکاتی منصوبہ تیار کر رہی تھی۔
فارس کے مطابق اسے ایسی معلومات موصول ہوئی ہیں کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے ایک خصوصی گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو ایران کی وزارت اقتصادی امور و خزانہ کے تعاون اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حاصل ہونے والی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی اور مخصوص مقاصد کے لئے استعمال ہوگی۔
دوسری جانب سرکاری خبررساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے محکمہ ماحولیات میں سمندری و آبی علاقوں کے امور کے نائب سربراہ احمد رضا لاہیجان زادہ نے کہا ہے کہ محکمہ آبنائے ہرمز میں ماحولیاتی خدمات کی فراہمی کے عوض ٹول ٹیکس وصول کرنے کے لئے ضوابط کا ایک مسودہ تیار کر رہا ہے۔
لاہیجان زادہ نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اس اقدام کا مقصد سمندری خدمات کو منظم کرنا اور آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت سے متعلق قانونی اور ماحولیاتی لائحہ عمل کو مزید بہتر بنانا ہے۔


