ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکعرب-چین تعاون جنوب جنوب تعاون کی ایک مثال ہے، سینئر عرب عہدیدار

عرب-چین تعاون جنوب جنوب تعاون کی ایک مثال ہے، سینئر عرب عہدیدار

قاہرہ (شِنہوا) سینئر عرب عہدیدار نے کہا ہے کہ عرب-چین تعاون باہمی احترام، داخلی امور میں عدم مداخلت، مشترکہ مفادات اور باہمی فائدے کے اصولوں پر قائم جنوب جنوب تعاون کی ایک مثال بن چکا ہے۔

قاہرہ میں قائم عرب پارلیمنٹ کے سپیکر محمد احمد الیماحی نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ دونوں فریق ہمیشہ ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق امور میں حمایت کرتے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اور چین اس سال اپنے سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور دونوں جانب ایک طویل المدتی اور مستقبل پر مبنی شراکت داری کے قیام کے لئے پختہ عزم پایا جاتا ہے۔

الیماحی نے کہا کہ عرب ممالک کے ساتھ چین کا تعاون محض مشترکہ مفادات تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک متوازن ترقیاتی شراکت داری قائم کرنا ہے جو ترقی پذیر دنیا میں ترقی اور خوشحالی کو فروغ دے۔

انہوں نے چین-مصر ٹیڈا سوئز اقتصادی و تجارتی تعاون علاقے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) عرب ممالک کی قومی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکا ہے اور اس نے تعاون کو روایتی تجارت سے آگے بڑھاتے ہوئے خلائی صنعت، مصنوعی ذہانت، صاف توانائی اور ڈیجیٹل تبدیلی جیسے نئے شعبوں تک وسعت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آر آئی نے عرب-چین تعاون کو عرب دنیا کی تزویراتی جغرافیائی اہمیت کو عملی ترقیاتی مواقع میں تبدیل کرنے کے قابل بنایا ہے۔

ان کے مطابق مشترکہ طور پر قائم کردہ بندرگاہیں، اقتصادی و صنعتی زونز، ٹرانسپورٹ راہداریاں اور تزویراتی نیٹ ورکس عرب ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی سپلائی چینز کے اہم مراکز میں تبدیل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ باہمی احترام اور مشترکہ فوائد پر مبنی بی آر آئی لائحہ عمل کے تحت عرب-چین تعاون نے صنعتی انضمام کو مضبوط کیا، پائیدار ترقی کو فروغ دیا اور باہمی رابطوں میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اپنی قومی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق اس منصوبے میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے عالمی معیشت میں ان کی اہمیت مزید بڑھتی ہے۔

الیماحی نے کہا کہ دونوں فریق مل کر چین-عرب مشترکہ مستقبل کی اعلیٰ سطح کی برادری تشکیل دے رہے ہیں جو ترقی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لئے ان کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تصور خوراک اور توانائی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار ترقی سمیت عالمی مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک عملی لائحہ عمل بھی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے عرب اور چینی نوجوانوں کے درمیان تبادلوں میں مزید اضافے پر زور دیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں