تیونس میں غیر ملکی جامعات کے طلبہ کے لئے چینی زبان میں مہارت کے 25ویں مقابلے ”چائنیز برج“ کا اختتامی مرحلہ منگل کے روز منعقد ہوا۔ چینی زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے تیونس کے 10 طلبہ بھی مقابلے میں شریک ہوئے۔
یونیورسٹی آف کارتاژ کے ہائر انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز آف تیونس میں تیسرے سال کی طالبہ راعوئن شوق نے مقابلے میں سب سے بڑا اعزاز جیتا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں بھی انہوں نے حصہ لیا تاہم وہ اپنی توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال کی سخت محنت آج رنگ لے آئی ہے اور میں بہت خوش ہوں کہ چینی زبان میں میری مہارت کو ہر ایک نے تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چین کی تیز رفتار ترقی نے چینی زبان سیکھنے کو خاص طور پر اہم بنا دیا ہے۔ چین اور اس کی ثقافت کو سمجھنے کے لئے چینی زبان سیکھنا ایسا عمل ہے جس پر فخر کیا جانا چاہئے۔
شوق نے اس امید کا اظہار کیا کہ دنیا بھر کے دوست چینی زبان سیکھ کر خوبصورت چین کے بارے میں جان سکیں گے۔
تیونس میں چین کے سفیر وان لی کا کہنا تھا کہ سال 2026 کو چین اور افریقہ کے درمیان عوامی روابط کا سال قرار دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں “چائنیز برج” مقابلہ اب اپنی اصل اہمیت سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تیونس کے نوجوان چینی زبان میں تانگ دور کی نظمیں پڑھتے ہیں اور چینی طلبہ کارتھیجین تہذیب کے بارے میں عربی میں بیان کرتے ہیں تو اس سے دو قدیم تہذیبیں اجاگر ہوتی ہیں اور برابر کی سطح پر مکالمے کے ذریعے ایک ساتھ ترقی کرتی ہیں۔
ہائر انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز آف تیونس کے ڈائریکٹر اور کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے تیونسی ڈائریکٹر ہیثم مسعودی نے کہا کہ “چائنیز برج” صرف زبان کے مقابلے کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ چین اور تیونس کو جوڑنے والی دوستی کا پل بھی ہے۔
انہوں نے طلبہ کو چینی زبان سے اپنی دلچسپی برقرار رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے رابطوں اور تعاون میں کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
یہ مقابلہ تیونس میں چینی سفارت خانے کے زیر اہتمام منعقد ہوا جبکہ اسے کارتاژ یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ اور تیونس کے ہائر انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز نے مشترکہ طور پر ترتیب دیا تھا۔
تیونس سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


