ہومانٹرنیشنلچین کا مشرق وسطیٰ میں استحکام بحال کرنے کے لئے کوششوں پر...

چین کا مشرق وسطیٰ میں استحکام بحال کرنے کے لئے کوششوں پر زور

اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ میں چین کے مندوب نے مشرق وسطیٰ تنازع کے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں جلد از جلد استحکام بحال کرنے کی کوشش کریں۔

اقوام متحدہ میں چین کےمستقبل مندوب فوکانگ نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں ڈرامائی انداز میں شدید کشیدگی آئی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں جس نے علاقائی استحکام کو بری طرح متاثر کیا ہے اور عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی پر بھی اثر ڈالا ہے۔ فوکانگ کے مطابق موجودہ صورتحال ایک نازک مرحلے میں ہے جو جنگ سے امن کی طرف منتقلی کا وقت ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً فلسطین کے مسئلے پر ہونے والی کھلی بحث کے دوران کہا کہ چین تمام فریقوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس امن کے موقع سے فائدہ اٹھائیں، انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، زیادہ سے زیادہ خلوص دکھائیں اور سیاسی حل کی سمت میں مضبوطی سے قائم رہیں تاکہ جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل میں کسی بھی قسم کی پسپائی نہ ہو اور مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جلد استحکام بحال کیا جا سکے۔

فوکانگ نے کہا کہ فلسطین کا معاملہ ہمیشہ سے مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکز رہا ہے اور کسی بھی صورت میں اسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں خاص طور پر اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرے تاکہ غزہ میں مکمل اور پائیدار جنگ بندی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، انسانی امداد کی راہ میں تمام رکاوٹیں ختم کرنی چاہئیں اور امدادی اداروں کو اپنا کام کرنے کی مکمل اجازت دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آبادکاری کی سرگرمیاں ناقابل قبول ہیں اور مغربی کنارے میں کشیدگی کو کم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ اسرائیل کی جانب سے دو ریاستی حل کی مخالفت کی آوازیں مسلسل آ رہی ہیں اور بعض اوقات فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

فوکانگ نے کہا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے، دو ریاستی حل کے نفاذ اور فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کے لئے کام جاری رکھنے کے لئے تیار ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں