ہومپاکستانججز تبادلے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس غیر رسمی درخواستوں پر بلانا...

ججز تبادلے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس غیر رسمی درخواستوں پر بلانا ممکن نہیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا ہے کہ ججز تبادلے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس غیر رسمی درخواستوں پر بلانا ممکن نہیں، بغیر وجہ تبادلہ جج کو سزا دینے کے مترادف ہو گا، اقدامات سے عدالتی نظام کا توازن متاثر، غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد میں ججز تبادلے کے معاملے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کو ارسال تحریری جواب میں کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس محض غیر رسمی درخواستوں پر نہیں بلایا جا سکتا ،ایسی درخواست کو قبول کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس سیکرٹری کی جانب سے آئینی طریقہ کار کے تحت بلایا جا سکتا ہے، اس کیلئے ایک تہائی ارکان کی باقاعدہ ریکوزیشن ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بغیر کسی واضح وجہ کے جج کا تبادلہ اسے سزا دینے کے مترادف ہو گا،اقدامات سے عدالتی نظام کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ججز کے انتظامی تبادلے عدلیہ کی آزادی و خود مختاری کے منافی ہوں گے، اقدام سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں صوبوں کی نمائندگی ختم ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، سندھ سے تعلق رکھنے والے ججز کی واپسی وفاقی توازن کیخلاف ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ اقدام سے اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ 2010 کے تقاضے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، اگر 9میں سے 5ججز کا تبادلہ کیا گیا تو عدالتی نظام متاثر ہونے کیساتھ ادارہ جاتی غیر یقینی صورتِ حال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ججز کیخلاف کارروائی کا باقاعدہ طریقہ کار آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت موجود ہے ،اسی طریقہ کار کے مطابق ہی کارروائی ممکن ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں