ریاض/تہران (شِنہوا) سعودی عرب میں قائم خبر رساں چینلز "الحدث” اور "العربیہ” نے اعلیٰ سطح کے ذرائع کے حوالہ سے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز 60 دنوں کے لئے دوبارہ خدوخال پر اتفاق ہو گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس معاہدے، جس کی ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل سے منظوری ابھی باقی ہے، اس آبی مقصد اس آبی گزرگاہ میں جہاز رانی بحال کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق آبنائے میں داخل ہونے والے بحری جہاز ایران کے قریب کا راستہ استعمال قریبی راستہ اختیار کریں گے۔ کوئی بھی ٹرانزٹ فیس یا سروس علاقائی فریق بارودی سرنگیں ہٹانے اور تکنیکی مراحل میں حصہ لے سکتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ معاہدے کی منظوری کے بعد امریکہ اور ایران امن کی اپنی مفاہمتی یادداشت پر واپس آئیں گے اور تجارتی جہاز رانی کی دوبارہ بحالی اور محفوظ آمدورفت سے متعلق پیراگراف 5 کو فعال کریں گے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں جو اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیpel۔
28 فروری کو ایران نے آبنائے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی تھی اور ایران کی سرزمین پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد اسرائیل یا امریکہ سے تعلق رکھنے والے یا ان سے وابستہ بحری جہازوں کے گزرنے پر پابندی عائد کر دی۔
جون میں ایران اور امریکہ نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے تھے۔ دونوں فریقوں کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے 60 دن کی مدت کے اندر مذاکرات طے تھے لیکن خطے میں حالیہ کشیدگی نے ان مذاکرات کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔


