اسلام آباد (لارڈ میڈیا): دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ کابل حکومت کو پاکستان سے بہتر تعلقات یا ٹی ٹی پی کی حمایت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ انہوں نے بریفنگ میں واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کے لیے عالمی انسانی اور اقتصادی امداد کی مخالفت نہیں کرتا، لیکن امداد دینے والے ممالک کو جانچ پڑتال کرنی چاہیے کہ یہ امداد ٹی ٹی پی یا دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
ترجمان نے مزید کہا کہ جب تک افغان حکومت ٹی ٹی پی سے تعلقات ختم نہیں کرتی، دوطرفہ تعلقات میں بہتری ممکن نہیں ہے۔ پاکستان نے باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون اور بحری سلامتی کی خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ باب المندب میں جہازوں کی عسکری حفاظتی حصار فراہم کرنے سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت اور تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرحد کھلی رکھنے کا فیصلہ بین الاقوامی پابندی کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ وزارت اطلاعات نے بتایا کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں کے پیچھے افغانستان میں موجود دہشت گرد قیادت اور ان کے سہولت کار ملوث ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان ہمارے خلاف بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔


