ہومتازہ ترینچین کا 2030 تک 50 فیصد بجلی غیر فوسل ذرائع سے پیدا...

چین کا 2030 تک 50 فیصد بجلی غیر فوسل ذرائع سے پیدا کرنے کا فیصلہ

بیجنگ (شِنہوا) چین نے 2030 تک غیر فوسل ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ بڑھا کر 50 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف ملک کے بجلی کے شعبے کی 2026 سے 2030 تک کی ترقی کے لئے جاری ہونےوالے نئے قومی منصوبے میں شامل ہے۔

قومی ترقی و اصلاحات کمیشن اور قومی توانائی انتظامیہ کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری ہونےوالے اس 5 سالہ منصوبے میں 2026 سے 2030 کے دوران چین کے بجلی کے شعبے کی مجموعی ترقی کا لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت 2030 تک بجلی کے ایک نئے نظام کی ابتدائی بنیاد قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت چین 2030 تک 2.8 ارب کلوواٹ سے زائد نئی توانائی کی پیداواری صلاحیت کو بجلی کے گرڈ میں اعلیٰ سطح پر ضم کرنے اور ایک ایسا چارجنگ انفراسٹرکچر نیٹ ورک قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو 11 کروڑ سے زیادہ برقی گاڑیوں کی معاونت کر سکے۔

ان اہداف کے حصول کے لئے منصوبے میں متعدد ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے، جن میں ماحول دوست اور کم کاربن بجلی کی فراہمی میں توسیع، بجلی کے زیادہ مربوط اور مضبوط گرڈ کی تعمیر، بجلی کے نظام میں لچک بڑھانا، بجلی کی فراہمی کے تحفظ کو بہتر بنانا، بجلی کے شعبے میں منڈی پر مبنی اصلاحات کو آگے بڑھانا اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا شامل ہیں۔

منصوبے میں قابلِ تجدید توانائی کی ترقی اور اسے بجلی کے گرڈ میں موثر انداز سے شامل کرنے کے درمیان توازن برقرار رکھنے، روایتی آبی بجلی کے منصوبوں کو سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھانے، جوہری توانائی کی محفوظ اور منظم ترقی کو فروغ دینے، غیر حیاتیاتی توانائی کے متنوع ذرائع کی حوصلہ افزائی کرنے اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی کارکردگی اور کاربن اخراج کی استعداد بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

2030 تک چین روایتی پن بجلی کی نصب شدہ صلاحیت تقریباً 41 کروڑ کلوواٹ، جوہری بجلی کی صلاحیت تقریباً 11کروڑ کلوواٹ، جبکہ بائیو ماس، شمسی حرارتی، جیو تھرمل اور سمندری توانائی کی مشترکہ نصب شدہ صلاحیت تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ کلوواٹ تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

اس سے قبل جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی بجلی کی مجموعی پیداوار میں کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ 49.7 فیصد رہا، جو پہلی بار 50 فیصد سے کم ہوا۔ یہ ملک کے ماحول دوست اور کم کاربن توانائی کے نظام کی جانب منتقلی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں