ہومتازہ ترینچین کی اے آئی صنعت کا حجم 2025 میں 12 کھرب...

چین کی اے آئی صنعت کا حجم 2025 میں 12 کھرب یوآن سے تجاوز کر گیا، 40 فیصد اضافہ ریکارڈ

بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت قائم ایک تحقیقی ادارے نے بتایا ہے کہ چین کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعت کا حجم 2025 میں 12 کھرب یوآن (تقریباً 176.7 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے۔

چائنہ اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجی (سی اے آئی سی ٹی) کے مطابق جون 2026 تک چین میں مصنوعی ذہانت سے متعلق 6 ہزار 600 سے زائد کمپنیاں موجود تھیں، جو دنیا بھر کی ایسی کمپنیوں کا 15 فیصد بنتی ہیں۔ ادارے کے مطابق چین نے بنیادی ڈھانچے، ماڈلز، لائحہ عمل اور مختلف شعبوں کے لئے مخصوص اطلاق پر مشتمل ایک مکمل صنعتی نظام تشکیل دے دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں اے آئی صنعتی سلسلے میں ایپلی کیشنز کا شعبہ مجموعی صنعت کا 55 فیصد رہا، جس میں سالانہ بنیاد پر 22 فیصد اضافہ ہوا۔ بنیادی ڈھانچے کا شعبہ 38 فیصد حصہ رکھتا تھا اور اس میں 59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ماڈلز اور لائحہ عمل کا شعبہ مجموعی صنعت کا 7 فیصد رہا جس نے 189 فیصد کی نمایاں شرح نمو حاصل کی۔

اکیڈمی کے مطابق اے آئی کی صنعت چند بڑے علاقوں تک محدود ہے جہاں بیجنگ، گوانگ ڈونگ، شنگھائی، ژے جیانگ اور شان ڈونگ مل کر ملک کی مجموعی اے آئی صنعت کا 80 فیصد سے زائد حصہ رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے اے آئی ماڈلز، اے آئی ایجنٹس اور اے آئی چپس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات میں تنوع آ رہا ہے اور ان کا استعمال روایتی صنعتوں سمیت مختلف شعبوں میں مسلسل بڑھ رہا ہے۔

سی اے آئی سی ٹی نے اے آئی کے شعبے کی تعریف اور اے آئی کمپنیوں کی شناخت سے متعلق دو صنعتی معیارات بھی تیار کئے ہیں جن کا مقصد صنعت سے متعلق اعداد و شمار، پالیسی سازی اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے یکساں معیار فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین مستقبل میں بھی اپنے "اے آئی پلس” اقدام کو آگے بڑھاتا رہے گا تاکہ مصنوعی ذہانت کو معیشت اور معاشرے کے مختلف شعبوں میں وسیع اور مضبوط انداز میں فروغ دیا جا سکے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں