شین زین (شِنہوا) چین کے جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ میں مقامی طور پر تیار کئے گئے تھرڈ جنریشن کے جوہری ری ایکٹر ہوالونگ ون پر مشتمل ایک نئے جوہری بجلی یونٹ نے تجارتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔
چائنہ جنرل نیوکلیئر پاور کارپوریشن (سی جی این) کے مطابق دوسرے یونٹ کی فعالیت کے ساتھ ہی تائی پھنگ لنگ جوہری بجلی گھر کے پہلے مرحلے کا منصوبہ مکمل ہو گیا ہے اور اب یہ مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے۔ یہ گوانگ ڈونگ۔ہانگ کانگ۔مکاؤ عظیم تر خلیجی علاقے کا پہلا جوہری توانائی منصوبہ ہے جس میں ہوالونگ ون ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس منصوبے کا پہلا یونٹ رواں سال اپریل میں فعال ہوا تھا۔
ہوئی ژو شہر کی ہوئی ڈونگ کاؤنٹی میں واقع اس منصوبے میں مجموعی طور پر ہوالونگ ون کے چھ یونٹس نصب کئے جائیں گے۔ پہلے مرحلے کے دو یونٹس کی منظوری اپریل 2019 میں دی گئی تھی جبکہ دوسرے یونٹ کی تعمیر اکتوبر 2020 میں شروع ہوئی۔
سی جی این ہوئی ژو نیوکلیئر پاور کمپنی لمیٹڈ کے چیئرمین ژانگ گو چھیانگ کے مطابق پہلے مرحلے کے دونوں یونٹس سے سالانہ 18 ارب کلو واٹ آور سے زائد بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے جو تقریباً 20 لاکھ افراد کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ منصوبہ ہر سال ایک کروڑ 66 لاکھ 30 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی لانے میں بھی مدد دے گا۔
ہوالونگ ون ری ایکٹر عالمی سطح پر مقرر کردہ اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات پر پورا اترتا ہے اور اسے چین کی جوہری توانائی کی جدید ترقی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق تائی پھنگ لنگ جوہری بجلی گھر کے پہلے مرحلے کی تکمیل عظیم تر خلیجی علاقے میں صاف توانائی کی فراہمی کی صلاحیت بڑھانے اور چین کے دوہرے کاربن اہداف کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
چین کا ہدف ہے کہ 2030 تک ایک ایسا نیا توانائی نظام بنیادی طور پر قائم کر لیا جائے جو صاف، کم کاربن، محفوظ اور موثر ہو۔ یہ ہدف حال ہی میں قومی ترقی و اصلاحاتی کمیشن اور قومی توانائی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پانچ سالہ منصوبے میں مقرر کیا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے جوہری توانائی کو فعال اور منظم انداز میں فروغ دیا جائے گا، جبکہ 2030 تک جوہری بجلی کی پیداواری صلاحیت تقریباً 110 گیگا واٹ تک پہنچانے کا ہدف ہے۔
2025 کے اختتام تک چین میں 112 جوہری بجلی یونٹس یا تو فعال تھے، زیرِ تعمیر تھے یا ان کی تعمیر کی منظوری دی جا چکی تھی۔ توقع ہے کہ 15 ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے دوران تجارتی بنیادوں پر فعال جوہری بجلی یونٹس کی تعداد 100 سے تجاوز کر جائے گی۔


