بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت صنعت اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے پیر کے روز بتایا کہ رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران چین کی جدید ادویات کے غیر ملکی کمپنیوں کو حقوق فروخت کرنے کے معاہدوں کی کل مالیت 100 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ گئی جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
وزارت کے شعبہ برائے آپریشن، نگرانی اور رابطہ کاری کی سربراہ تاؤ چھنگ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس مدت میں چین نے منڈی میں جدید38 ادویات کی منظوری دی جن میں سے 31 مقامی کمپنیوں نے تیار کی تھیں۔
تاؤ چھنگ نے کہا کہ پیچیدہ اور چیلنجنگ بیرونی عوامل اور صنعتی تبدیلی کے شدید دباؤ کے باوجود چین کی دواسازی کی صنعت مستحکم اور مضبوط رہی۔
جنوری تا جون ادویات تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کی صنعتی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ حیاتیاتی ادویات کے شعبے میں نمو دو ہندسوں میں ریکارڈ کی گئی۔
سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران اس صنعت کی برآمدات کی مالیت 210 ارب یوآن (تقریباً 30.91 ارب امریکی ڈالر) سے بڑھ گئی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔
زیادہ قدر والی مصنوعات، بشمول تیار شدہ کیمیائی اور حیاتیاتی ادویات چین کی مجموعی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد حصہ رکھتی ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کی برآمدی ساخت اب بنیادی خام مال کی بجائے اعلیٰ قدر والی تیار شدہ ادویاتی مصنوعات کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔


