ہومتازہ ترینپاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر 649 ملین ڈالر تک پہنچ...

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر 649 ملین ڈالر تک پہنچ گیا

کراچی (لارڈ میڈیا) جون 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 649 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس نے ماہرین، سرمایہ کاروں، بینکاروں اور پالیسی سازوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ کسی بھی ملک میں ڈالر کی آمد و اخراج کا توازن ظاہر کرتا ہے، جس میں اشیا و خدمات کی برآمدات و درآمدات، آئی ٹی برآمدات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر شامل ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خسارے کی صورت میں اس فرق کو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، بیرونی قرضوں، گرانٹس اور دیگر مالی ذرائع سے پورا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی 2017-18 اور 2021-22 کے دوران بڑھتے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث روپے کی قدر میں نمایاں کمی، درآمدی پابندیوں، مہنگائی میں اضافے اور بلند شرح سود جیسے مسائل کا سامنا کر چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات تقریباً جمود کا شکار رہیں، جبکہ درآمدات میں تقریباً ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ توانائی کی عالمی قیمتوں، ایل این جی، کوئلے، کیمیکلز اور فریٹ چارجز میں اضافے نے بھی درآمدی بل کو مزید بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 41 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کے باعث ملکی معیشت کو بڑا سہارا ملا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اگر ترسیلات زر میں یہ اضافہ نہ ہوتا تو بیرونی شعبے پر دباؤ کہیں زیادہ شدید ہوسکتا تھا۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ بجٹ میں برآمدکنندگان پر سپر ٹیکس کے خاتمے، خام مال اور درمیانی درجے کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور کم از کم ٹیکس کو 1.25 فیصد تک لانے جیسے اقدامات مثبت ہیں، لیکن پائیدار ترقی کے لیے جامع اصلاحات ضروری ہیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ برآمدات میں سالانہ 15 فیصد اضافے کا واضح ہدف مقرر کیا جائے، نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے، زرعی ٹیکنالوجی و پیداوار میں بہتری لائی جائے اور ٹیکنالوجی پر مبنی اعلیٰ معیار کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں