قاہرہ (لارڈ میڈیا) مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب یمن کے حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کر رہے ہیں اور سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ملاقات کے دوران صدر السیسی نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے یمن کے بحران کے جامع اور پائیدار سیاسی حل کے لیے جاری کوششوں کی بھی حمایت کی۔
مصری ایوان صدر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم بحری گزرگاہوں کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک نے خطے میں استحکام اور سلامتی کے لیے تعاون جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اس کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان بڑی مقدار میں تجارتی سامان اور توانائی کی ترسیل ہوتی ہے، اس راستے میں طویل خلل عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور شپنگ لاگت پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
حوثیوں نے حالیہ دنوں میں یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، جس سے اہم بحری راستے کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سعودی عرب نے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد بحیرہ احمر کے راستے پر اپنی انحصاری بڑھائی ہے، جس کے باعث باب المندب کی سلامتی سعودی تیل برآمدات اور عالمی توانائی منڈی کے لیے مزید اہم ہوگئی ہے۔
یمن میں تازہ لڑائی کے نتیجے میں انسانی بحران بھی سنگین ہوگیا ہے، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد اندرونِ یمن بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ سمندری راستے سے جبوتی کی جانب بھی نقل مکانی کر رہے ہیں۔


