ارمچی (شِنہوا) چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے میں پیٹروسارز سے متعلق ایک سائنسی میوزیم کھول دیا گیا۔ پیٹروسارز پروں کے حامل ایسے رینگنے والے جانور تھے جن کا ڈائنوسارز سے قریبی تعلق تھا۔
دنیا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا عجائب گھر سنکیانگ کے ہامی خطے میں واقع ایک قومی جیوپارک میں قائم کیا گیا ہے، جو وافر مقدار میں پٹیروسارز کے فوسلز کی دریافتوں کے حوالے سے مشہور ہے۔
تقریباً 4,600 مربع میٹر رقبے پر محیط ہامی پٹیروسار میوزیم میں بیضوی شکل کے 6 ہال شامل ہیں، جنہیں باہم قدرے مختلف ترتیب میں بنایا گیا ہے۔ اوپر سے دیکھنے پر یہ عجائب گھر صحرا میں رکھے پٹیروسارز کے انڈوں کے ایک مجموعے سے مشابہ نظر آتا ہے۔

چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے کے شہر ہامی میں پٹیروسارز کے لئے مختص سائنس عجائب گھر کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔(شِنہوا)
نمائش کے لئے رکھے گئے فوسلز میں چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس) کے انسٹی ٹیوٹ آف ورٹیبریٹ پیلیونٹولوجی اینڈ پیلیواینتھروپولوجی کے محققین کی جانب سے 2 دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران کی جانے والی کھدائیوں کے دوران دریافت کئے گئے نمونے بھی شامل ہیں۔ دنیا میں پہلی بار سہ جہتی حالت میں محفوظ کئے گئے پٹیروسارز کے فوسل شدہ انڈے اور جنین بھی نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں، جبکہ بڑے حجم کے پٹیروسارز کے بعض نمونے بھی پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کئے گئے ہیں۔
عجائب گھرکے مطابق ان تمام نمونوں کو پہلی بار ایک ساتھ نمائش کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ نمائش میں تقریباً 13 کروڑ سال قبل کریٹیشیئس دور کے دوران پٹیروسارز کی زندگی اور ارتقا کی ایک جامع تصویر پیش کی گئی ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے مذکورہ ادارے کے سربراہ شو شنگ نے کہا کہ یہ عجائب گھر نہ صرف عالمی سطح پر پٹیروسارز کی تحقیق میں چین کے قائدانہ کردار کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عوام کو سائنسی دریافتوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے اور قدیم حیات کے عجائبات کو سراہنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔


