2026 چین بین الاقوامی میلہ برائے خدماتی تجارت بدھ کو بیجنگ میں شروع ہو گیا ہے۔ چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں خدماتی تجارت کے شعبے میں مزید کھلے پن کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
یہ میلہ 13 ستمبر تک شوگانگ پارک میں جاری رہے گا۔ یہ صنعتی مقام بیجنگ 2022 سرمائی اولمپکس کے لیے بھی استعمال ہوا تھا۔ میلے میں 90 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے شرکا شریک ہوئے ہیں جبکہ ایک ہزار 800 سے زائد کمپنیوں نے اپنی مصنوعات اور خدمات پیش کی ہیں۔ ان میں فارچیون گلوبل 500 میں شامل 473 کمپنیاں اور ہنی ویل، جانسن اینڈ جانسن اور زیمنز سمیت دیگر نمایاں صنعتی ادارے شامل ہیں۔
اس سال کے میلے کا موضوع "عالمی خدمات، مشترکہ خوش حالی” ہے۔ میلے میں عالمی خدماتی تجارت سربراہی اجلاس بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔ جس کی پہلی بار عالمی ادارۂ دانشورانہ ملکیت نے مشترکہ میزبانی کی ہے۔ میلے کے دوران مختلف فورمز اور کاروباری شراکت داروں کے درمیان روابط بڑھانے کی سرگرمیاں بھی منعقد ہوں گی۔
میلے میں 100 سے زائد نئی مصنوعات اور خدمات پہلی بار متعارف کرائی جائیں گی۔ ان میں اطلاعات و مواصلات، مالیاتی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل و ذہین طبی خدمات سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): بینجمن ہنگ، صدر، بین الاقوامی امور، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ
"سب سے پہلے یہ خوش آئند بات ہے کہ چین میں خدماتی تجارت کے لیے ایسی عالمی نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ایسی نمائشیں اور سربراہی اجلاس بہت زیادہ نہیں ہیں جو صرف خدمات کے شعبے کے لیے مخصوص ہوں حالانکہ عالمی تجارت میں خدمات کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ دیکھنا بھی بہت اچھا ہے کہ یہاں مختلف ممالک صرف تجارت اور خدمات کی پیشکش کے لیے نہیں بلکہ باہمی تعاون کے طریقوں پر بات چیت کے لیے بھی جمع ہوئے ہیں۔
میرے خیال میں سب سے اہم بات چین کا خدمات کے شعبے سے عزم ہے۔ دوسری اہم بات چین کو مزید کھولنے کا عزم اور آمادگی ہے۔ یعنی دنیا سے چین میں خدمات لانے کے ساتھ ساتھ چین سے دنیا کے دیگر ممالک کو خدمات فراہم کرنا بھی۔ میرے نزدیک یہ ایک ایسے منصفانہ اور کھلے نظام کے قیام کے عزم کو ظاہر کرتا ہے جو چین اور دنیا کے درمیان تجارت کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔”
مرکزی نمائش کے علاقے میں خدماتی تجارت کی تمام 12 اقسام سے متعلق 140 سے زائد جدت پر مبنی نمونے بھی پہلی بار پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں مصنوعی ذہانت، بڑے لسانی نمونے اور ذہین معاون نظام شامل ہیں جو چین کے خدماتی شعبے کے مستقبل کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
ورلڈ انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈیرن ٹینگ نے سربراہی اجلاس سے اپنے ویڈیو خطاب میں کہا کہ چین کی خدماتی تجارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے دانشورانہ ملکیت اور جدت کے مضبوط نظام نے علم پر مبنی خدمات کی برآمدات کو بھی تقویت دی ہے۔
تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے سات ماہ میں چین کی خدماتی تجارت کا مجموعی حجم تقریباً 4.45 ٹریلین یوآن یعنی تقریباً 656.6 ارب امریکی ڈالر رہا جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 8.3 فیصد زیادہ ہے۔
خدماتی تجارت کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے 2026 سے 2030 کے خاکے میں ایک اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ منصوبے میں خدماتی تجارت کے لیے منفی فہرست کے انتظام کو بہتر بنانے، سرحد پار پابندیوں میں نرمی، خدمات کی برآمدات کی حوصلہ افزائی اور علم پر مبنی خدماتی تجارت کے فروغ کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
بیجنگ سے نمائندہ شِنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ


