تہران (شِنہوا) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایران کے بنیادی ڈھانچے اور شہریوں کے ذریعہ معاش کے خلاف امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی ’’جنگ‘‘ کی مذمت کی ہے۔
پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکی دباؤ اور ’’دھونس‘‘ کے باوجود ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’’اگر امریکی جنگجو ہیں تو ہماری بہادر مسلح افواج کا سامنا کریں۔ بنیادی شہری ڈھانچے، خوراک کی فراہمی اور لوگوں کے ذریعہ معاش کے خلاف جنگ کیوں مسلط کی جا رہی ہے؟ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر وہ انسان ہیں تو لوگوں کو پانی، خوراک اور ادویات تک رسائی سے کیوں محروم کر رہے ہیں؟ ہمارے عوام کو دھونس کے ذریعے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا۔‘‘
28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے تہران اور ایران کے دیگر شہروں پر مشترکہ حملے کئے، جن میں ملک کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، فوجی کمانڈروں اور عام شہریوں سمیت متعدد افراد مارے گئے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
اگرچہ تہران اور واشنگٹن نے جون میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے تھے، تاہم امریکہ نے اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہے اور گزشتہ ماہ کے اواخر سے ایران پر اقتصادی دباؤ اور پابندیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔


