ہومتازہ ترینسی آئی ایف ٹی آئی ایس نمائش چین آسیان تعاون کے لئے...

سی آئی ایف ٹی آئی ایس نمائش چین آسیان تعاون کے لئے دو طرفہ پل ہے، ملائیشین تھنک ٹینک سربراہ

ملائیشیا میں قائم سینٹر آف ریجنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے چیئرمین تان کار ہِنگ کا کہنا ہے کہ خدمات کی تجارت چین اور آسیان کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کو مزید گہرا بنانے میں ایک نیا رابطہ بن کر ابھر رہی ہے۔

حکومت، تھنک ٹینک اور کاروباری طبقے کے نمائندوں پر مشتمل ملائیشیا کا ایک وفد رواں برس کے چین کے خدمات کی تجارت کا بین الاقوامی میلے میں شرکت کرے گا۔چین کی یہ بین الاقوامی نمائش 9 سے 13 ستمبر تک بیجنگ میں منعقد ہو رہی ہے۔

چائنہ انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز (سی آئی ایف ٹی آئی ایس) میں تان کار ہِنگ ملائشیا کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ نمائش ملائیشیا کے کاروباری اداروں کو ترقی کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ایک مددگار پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ (چینی): تان کار ہِنگ، چیئرمین، سینٹر آف ریجنل اسٹریٹجک اسٹڈیز، ملائیشیا
’’میرے خیال میں سی آئی ایف ٹی آئی ایس کی اہمیت اس کے دو طرفہ پل کے کردار میں ہے جس سے ہمارے کاروباری اداروں کو ترقی کی نئی قوت فراہم ہو رہی ہے۔
چین کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی مختلف نمائشیں عالمی سطح کے اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہیں۔
یہ نمائشیں صرف جدت کے اظہار اور باصلاحیت افراد کے تبادلوں میں سہولت کاری کے پلیٹ فارم نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد صرف اشیا کی درآمد و برآمد ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کے ذریعے باہمی رابطے قائم ہوتے ہیں۔
ملائیشیا کی ڈیجیٹل معیشت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت اس وقت ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
ہمیں باہمی تبادلوں کے ساتھ ساتھ مقامی سطح کے باصلاحیت افراد کے لئے مؤثر تربیتی نظام کی بھی ضرورت ہے۔
ملائیشیا اور آسیان کے پورے خطے میں زیادہ اضافی قدر پیدا کرنے کے لئے ملائیشیا میں ٹیکنالوجی کے مقامی استعمال کے مختلف مواقع کو چینی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا انتہائی اہم ہے۔
ٹچ این گو سروس ابتدا میں زیادہ تر ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے لئے ہی استعمال کی جاتی تھی لیکن چینی ٹیکنالوجی کی معاونت اور ہمارے باہمی تعاون کے نتیجے میں اب یہ ملائیشیا کے لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔
چاہے خدمات کی تجارت ہو یا ٹیکنالوجی کا استعمال چین نے پہلے ہی دونوں شعبوں میں اسے وسیع پیمانے پر رائج کر دیا ہے۔ چینی ٹیکنالوجیز ہماری روزمرہ زندگی کی معمولی سے معمولی ضرورت کا حصہ بن چکی ہیں۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ چینی ٹیکنالوجیز صرف چین تک محدود نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد صرف چین کی منڈی کی ضروریات پوری کرنا ہے۔
مثال کے طور پر ماحول دوست توانائی کو عالمی سطح پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ فوٹو وولٹک کے شعبے میں چین نے نمایاں تکنیکی اور اقتصادی معاونت فراہم کی ہے۔
اس طرح دنیا بھر کے لوگوں کو چین کے کھلے اندازِ کار سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے اور عالمی معیشتیں مل کر ترقی کر سکتی ہیں۔‘‘

کوالالمپور سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں