چین کے شمال مغربی ننگ شیا ہوئی خودمختار علاقے کے شہر اِن چھوان میں ہیلان پہاڑ کے دامن سے چار گھوڑوں والی رتھ کی ایک نایاب چٹانی نقش نگاری دریافت ہوئی ہے۔
نقش نگاری کا حجم صرف 24 بائی 20 سینٹی میٹر ہے جبکہ اس پر تراشی گئی لکیروں کی گہرائی تقریباً 1.5 ملی میٹر ہے۔ یہ نقش نگاری جزوی طور پر زمین میں دبی ہوئی ایک چٹان پر موجود ہے جو سطح زمین سے تقریباً 15 سینٹی میٹر بلند ہے۔ ہیلان پہاڑ کی چٹانی نقش نگاری میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی دریافت ہے جبکہ ملک گیر سطح پر بھی اسے ایک نایاب دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ (چینی): ژانگ جیان گو، ڈپٹی ڈائریکٹر، ہیلان ماؤنٹین راک آرٹ ایڈمنسٹریشن
’’یہاں ہم واضح طور پر دو پہیے، ایک رتھ اور ایک محور دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں رتھ کا ایک ڈنڈا ہے جبکہ اس کے دونوں جانب چار گھوڑے بنائے گئے ہیں۔
دو یا تین گھوڑوں والی رتھ کے مقابلے میں چار گھوڑوں والی رتھ کو چلانے کے لئے کہیں زیادہ مہارت اور قابو پانے کی ضرورت ہوتی تھی۔ اسی بات سے چٹان پر اس نقش نگاری کا نایاب ہونا واضح ہوتاہے۔‘‘
250 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہیلان پہاڑ قدیم چٹانی نقش نگاری کے 20 ہزار سے زائد نمونوں کا مرکز ہے جنہیں قدیم باشندوں نے پتھروں، دھاتی آلات یا معدنی رنگوں کی مدد سے تخلیق کیا تھا۔
تقریباً 10 ہزار سے 3 ہزار برس قدیم تاریخ کی حامل ان نقش نگاریوں میں مختلف موضوعات کو پیش کیا گیا ہے۔ ان موضوعات میں انسانی چہروں، جانوروں اور ہاتھوں کے نشانات جیسی قدرتی اشکال سے لے کر مویشی چرانے، شکار اور مذہبی رسومات جیسے قدیم طرزِ زندگی کے مناظر شامل ہیں۔
اِن چھوان، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


