کراچی (لارڈ میڈیا): 31 جولائی تک مقامی جننگ فیکٹریوں میں 7 لاکھ 86 ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے۔ بارشوں کے باوجود سندھ میں کپاس کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم پنجاب میں اس مدت کے دوران ایک فیصد کمی دیکھنے کو ملی ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 31 جولائی تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر 7 لاکھ 86 ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس کی ترسیل ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 32 فیصد زائد ہے۔
احسان الحق نے بتایا کہ سندھ کے ضلع سانگھڑ کی جننگ فیکٹریوں میں 3 لاکھ 98 ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس کی آمد ہوئی ہے جو ملک گیر سطح پر سب سے زیادہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں فروری/مارچ کے دوران کاشت ہونے والی کپاس کی آمد ہے۔
پنجاب کراپ رپورٹنگ سینٹر سروسز کے مطابق 30 جولائی تک پنجاب میں کپاس کے پیداواری اعداد و شمار پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مقابلے میں 32 فیصد زائد ہیں۔ جنوبی پنجاب کے تینوں ڈویژنز میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 40 ہزار گانٹھوں کی پیداوار ہوئی ہے۔
احسان الحق نے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان نے بیرون ملک سے 3.785 ارب ڈالر مالیت کا خوردنی تیل درآمد کیا ہے۔ کپاس کی کم ہوتی ہوئی کاشت کے باعث روئی اور خوردنی تیل کے درآمدی بل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس اور جی ایس پی پلس اسٹیٹس ہونے کے باوجود یورپی یونین کے ممالک کو برآمدات میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔


