کابل (لارڈ میڈیا): افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے افغان طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ یونائیٹڈ فرنٹ کے چیئرمین اور سابق افغان جنرل سمیع سادات نے ویڈیو بیان میں اعلان کیا کہ طالبان کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
بدخشاں میں طالبان کے خلاف گوریلا کارروائیوں میں اضافے سے طالبان حکومت کی رٹ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ جنرل سمیع سادات نے کہا کہ طالبان کے ارکان، اڈوں اور قیادت کو نشانہ بنانے کے ساتھ فوجی کارروائیوں کا پہلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔
جنرل سادات نے عزم کیا کہ وہ نہ صرف افغان طالبان بلکہ القاعدہ، اسلامک اسٹیٹ، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھی لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے زیرِ قبضہ تقریباً پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد مذاکرات سے تصفیہ کا خیال ناکام ہو چکا ہے۔
انہوں نے افغانستان کے اندر اور دنیا بھر میں موجود افغان شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اس جدوجہد میں شامل ہوں تاکہ ملک کو طالبان کے جبر سے آزاد کرایا جا سکے۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کا مقصد 2004 کے آئین اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت آزاد اور آئینی افغانستان کی بحالی ہے۔
جنرل سادات نے امریکا، نیٹو اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل وقت میں ان کی سیاسی اور مادی مدد کریں، البتہ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں یا اڈوں کی ضرورت نہیں ہے۔


