کراچی (لارڈ میڈیا): سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے واضح کیا ہے کہ سندھ کی تقسیم پیپلزپارٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے کبھی سندھ کو انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی کرے گی۔ سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ ملک میں موجودہ معاشی بحران کے دوران انتظامی یونٹس کو چلانے کے لیے مالی وسائل کی کمی ہے۔
ترجمان نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ ان کا سیاسی اسٹنٹ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مصطفیٰ کمال نے بطور وزیر صحت اپنے ووٹرز کے لیے آواز اٹھائی؟ یا خالد مقبول صدیقی نے کوئی تعلیمی منصوبہ دیا؟
ان کا کہنا تھا کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے اور سندھ کے لوگ اس کی تقسیم نہیں چاہتے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ کراچی میں انفرا اسٹرکچر پر کام جاری ہے، مگر شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی ڈیفنس میں پانی کی کمی کا سامنا کرتی ہیں۔
ریڈ لائن منصوبے کے بارے میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کام تیزی سے جاری ہے اور مکسڈ لین ٹریک کی ڈیڈ لائن 31 جولائی ہے۔


