ہومتازہ ترینصحرائی رقبوں کی بحالی میں چین کا تجربہ سعودی عرب کے لئے...

صحرائی رقبوں کی بحالی میں چین کا تجربہ سعودی عرب کے لئے رہنمائی کا ذریعہ ہے، سعودی عہدیدار

ریاض (شِنہوا) سعودی عرب صحرائی رقبوں میں بنجر پن سے نمٹنے اور نباتاتی رقبے کو وسعت دینے کے لئے چین کے ساتھ تعاون مضبوط کر رہا ہے، جبکہ مملکت اپنے سعودی گرین انیشی ایٹو کے تحت ماحول سے متعلق اپنے پر عزم اہداف کو آگے بڑھاتے ہوئے چین کے کئی دہائیوں پر محیط تجربے سے استفادہ کر رہی ہے۔

نیشنل گریننگ پروگرام کے جنرل منیجر احمد الانازی نے انٹرویو میں شِنہوا کو بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے ناقابل استعمال زمین کے پہلے 10 لاکھ ہیکٹر رقبے کی بحالی طویل المدتی تزویراتی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، جس میں بین الاقوامی تجربات، بالخصوص چین کے تجربے کے ساتھ ساتھ پاکستان، ایتھوپیا، میکسیکو اور ترکیہ سے حاصل ہونے والے سبق سے بھی استفادہ کیا گیا۔

الانازی نے کہا کہ مملکت نے چین کے کئی دہائیوں پر محیط تجربے سے نمایاں فائدہ اٹھایا ہے، اس میں بالخصوص ریت کے پھیلاؤ کے معاملات کو سمجھنے اور خشک زمین کی بحالی کا طریقہ کار شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین نے اس حوالے سے ایک عملی مثال پیش کی ہے کہ سائنسی منصوبہ بندی اور مرحلہ وار عملدرآمد کے ذریعے صحرائی علاقوں کو پیداواری ماحول میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

الانازی نے کہا کہ سعودی عرب اور چین کے درمیان ماحولیاتی تعاون میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ صحرائی علاقوں میں بنجر پن سے نمٹنے کے شعبے میں مہارت رکھنے والے چینی تحقیقی اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جانب سے مشترکہ تربیتی پروگرامز اور ورکشاپس بھی منعقد کی گئی ہیں اور نباتات کی نگرانی، بیج بینکوں اور مٹی کی بہتری کی ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں مہارت کا تبادلہ کیا گیا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں