ہومتازہ ترینجاپانی یونٹ 731 کی سیاہ تاریخ منظر عام پر لانے کے لئے...

جاپانی یونٹ 731 کی سیاہ تاریخ منظر عام پر لانے کے لئے وسیع تر بین الاقوامی تعاون ضروری ہے، سنگاپوری مورخ

سنگاپور (شِنہوا) سنگاپور کے مورخ لم شاؤ بن نے کہا ہے کہ "80 سے زیادہ برس گزر چکے ہیں اور اب جا کر ہمیں احساس ہونا شروع ہوا ہے کہ جاپان نے ہمیں ابھی بھی کتنی باتیں نہیں بتائیں۔” لم شاؤ بن نے کئی دہائیاں جنوب مشرقی ایشیا میں جاپان کی حیاتیاتی جنگی سرگرمیوں کا سراغ لگانے میں صرف کی ہیں۔

لم نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ہر نئی دریافت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ تاریخ کا کتنا بڑا حصہ اب بھی دستاویزی شکل میں موجود نہیں اور اس خلا کو پر کرنے کے لئے حکومتوں اور تاریخ کے ماہرین کے درمیان وسیع تر بین الاقوامی تعاون درکار ہوگا۔ اس تعاون کا مقصد نہ صرف مختلف شعبوں میں تحقیق کو آگے بڑھانا ہے بلکہ مزید تاریخی ریکارڈز منظر عام پر لانے کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔

1980 کی دہائی سے لم جاپان میں قدیم کتب فروخت کرنے والی دکانوں اور سرکاری آرکائیوز سے جنگ کے زمانے کی جاپانی دستاویزات جمع کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ان کی تحقیق جنوب مشرقی ایشیا میں سرگرم جاپانی شاہی فوج کے ایک نسبتاً کم معروف حیاتیاتی جنگی یونٹ 9420 پر مرکوز رہی ہے۔

یونٹ 9420 جاپان کے وسیع تر حیاتیاتی جنگی نیٹ ورک کے حصے کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جس کے اہلکاروں میں ہاربن میں قائم یونٹ 731 کے علاوہ نان جنگ اور جاپان میں قائم دیگر یونٹس سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔

لم کے مطابق یونٹ 9420 نے "سنگاپور اور موجودہ ملائیشیا میں جراثیمی بموں کی تیاری کے لئے ایک مکمل پیداواری سلسلہ قائم کیا تھا۔” چوہوں کو خوراک فراہم کرنے کے لئے سبزیاں اگائی جاتی تھیں۔ پھر پسو پیدا کرنے کے لئے چوہوں کی افزائش کی جاتی تھی۔ اس کے بعد ان پسوؤں کو طاعون کے بیکٹیریا سے متاثر کیا جاتا اور انہیں شیشے کے بموں میں بھر کر میدان جنگ تک پہنچایا جاتا تھا۔

اس یونٹ کا صدر دفتر سنگاپور میں تھا جبکہ اس کی شاخیں موجودہ ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ، ویتنام اور میانمار میں قائم تھیں۔

لم نے کہا کہ "جاپانی فوج جنوب مشرقی ایشیا اس لئے آئی کیونکہ یہاں کی آب و ہوا موزوں تھی۔” جاپانی محققین اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ پسو 27 سے 30 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت اور تقریباً 90 فیصد نمی میں سب سے موثر انداز میں افزائش پاتے ہیں۔

ان میں سے بہت سی تفصیلات "اوکا 9420 یونٹ، جاپانی ساؤتھ آرمی بی ڈبلیو ٹروپ” نامی کتاب میں شامل ہیں، جو لم نے چینی محقق وانگ شوان کے ساتھ مل کر تحریر کی اور 2025 میں شائع ہوئی۔

تاہم اس کے باوجود نئے شواہد مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

اہم ترین شواہد میں سے ایک حال ہی میں سامنے آنے والی وہ گواہی ہے جو برطانیہ کے نیشنل آرکائیوز میں محفوظ ہے۔ یہ گواہی ڈبلیو۔ بی ولیمز نامی سابق جنگی قیدی نے دی تھی اور اس سے نئے شواہد مل سکتے ہیں کہ برطانوی جنگی قیدیوں کو بھی انسانی تجربات کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں