کوالالمپور (شِنہوا) ملائیشین نیشنل نیوز ایجنسی (برناما) کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نورالعفیدہ کمال الدین نے کہا ہے کہ جغرافیائی سیاسی مسائل کے باوجود آسیان اور چین کے درمیان تعاون علاقائی استحکام اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے شِنہوا کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ روایتی تجارت اور مصنوعات سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کے ساتھ آسیان اور چین کے تعلقات مزید اہم ہو جائیں گے اور عالمی نظام کی نئی سمت میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے دور میں خطے کو حریف یا الگ الگ بلاکس میں تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔ اسے باہمی احترام، شمولیت اور مذاکرات کی بنیاد پر استوار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلی دہائی میں ایشیا بحرالکاہل خطہ پرامن، کھلا اور معاشی طور پر متحرک رہے گا جبکہ چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کو بھی اپنی آواز موثر انداز میں پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا۔چین تعلقات سمیت آسیان۔چین تعاون تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی شہری سہولتوں اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں طور پر فروغ پایا ہے۔ مستقبل میں ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحول دوست معیشت بھی ایک اہم اور امید افزا شعبہ ہے جبکہ قابل تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں، بیٹری ٹیکنالوجی اور توانائی کی بچت میں تعاون سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اہداف کے حصول میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
نورالعفیدہ نے مزید کہا کہ چین سے ملنے والے اپنے تجربے کی بنیاد پر وہ ملک میں آنے والی تیز رفتار اور بڑے پیمانے کی تبدیلیوں سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق یہ تبدیلیاں صرف بنیادی شہری سہولتوں کے بڑے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں ہیں جن میں ڈیجیٹل ادائیگیاں، آن لائن خریداری، جدید ٹرانسپورٹ اور مربوط آن لائن خدمات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ تجربات کے بعد نئی ٹیکنالوجی اور جدت کو تیزی سے بڑے پیمانے پر عملی شکل دے سکتا ہے۔ جدت کو صرف آزمائشی منصوبوں تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ صنعتوں، شہروں اور عوامی خدمات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کے شعبے میں بھی موبائل پر مبنی مواد، ویڈیو پروڈکشن، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ڈیٹا جرنلزم اور اے آئی میں نمایاں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کی جانب سے بنیادی شہری سہولتوں، تحقیق، مہارتوں اور عملی نفاذ میں طویل مدتی سرمایہ کاری ملائیشیا اور آسیان کے لئے قیمتی تجربہ فراہم کرتی ہے۔ ان شعبوں میں یونیورسٹیوں، صنعتوں، حکومتی اداروں اور میڈیا تنظیموں کے درمیان مزید قریبی تعاون بھی کیا جا سکتا ہے۔


