جوہانسبرگ (شِنہوا) جنوبی افریقہ کے توانائی کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور آلات کی تیاری کے شعبوں میں مزید تعاون سے جنوبی افریقہ کی توانائی کی منتقلی اور صنعتی ترقی کے لئے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
بجلی کے بلدیاتی اداروں کی ایسوسی ایشن کے سابق صدر ندواماتو ٹام ٹونک موتشیدزا نے شِنہوا کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ جنوبی افریقہ اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون برکس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور جنوبی افریقہ کے توانائی کی منتقلی کے منصوبے میں مدد دے گا۔
چین کی قابل تجدید توانائی، بیٹری سے توانائی ذخیرہ کرنے، بجلی کے گرڈ کی بنیادی سہولت اور آلات کی تیاری میں وسیع مہارت کا ذکر کرتے ہوئے موتشیدزا نے کہا کہ یہ شعبے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لئے بڑے مواقع فراہم کرتے ہیں کیونکہ جنوبی افریقہ بجلی کے اپنے شعبے کے مختلف مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ خاص طور پر ناردرن کیپ اور ساحلی علاقوں میں شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع وسائل موجود ہیں۔ تاہم نئی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بجلی کی زیادہ طلب والے بڑے مراکز کے ساتھ جوڑنے کے لئے بجلی کے ترسیلی نظام کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
موتشیدزا نے کہا کہ جنوبی افریقہ بجلی کے ترسیلی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور توانائی کی منتقلی کو فروغ دینے کے لئے چین کی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ماہر نے کہا کہ جنوبی افریقہ کا مربوط وسائل منصوبہ 2025 قابل تجدید توانائی، جوہری توانائی اور کم کاربن والی ٹیکنالوجیز پر مشتمل متنوع توانائی کے نظام کا تصور پیش کرتا ہے، جس سے چین اور دیگر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کے مزید مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ جب توانائی کی منتقلی کو آگے بڑھا رہا ہے تو بے روزگاری، غربت اور پسماندگی سے نمٹنے کے لئے صنعتی پیداوار میں اضافہ ضروری ہوگا۔ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے والی شراکت داری ان مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مستقبل کے حوالے سے موتشیدزا نے کہا کہ جنوبی افریقہ اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون قابل تجدید توانائی سے آگے بڑھ کر ہائیڈروجن، جدید صنعتی پیداوار اور توانائی کی دیگر نئی ٹیکنالوجیز تک پھیل سکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔


