نیویارک (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف دو میڈیا اداروں نے ایک متنازع سروس کے معاملے پر مقدمہ دائر کیا ہے، جس کے ذریعے ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کی پوسٹس تک تیز تر رسائی فراہم کی جاتی ہے۔
میڈیا ادارے دی انٹرسیپٹ اور غیر منافع بخش تنظیم فریڈم آف دی پریس فاؤنڈیشن نے نیویارک میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے اس منصوبے کو غیر معمولی، بدعنوان اور غیر آئینی قرار دیا۔
دونوں تنظیموں نے اس منصوبے کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی پوسٹس اکثر حکومتی پالیسی، فوجی کارروائیوں اور دیگر فیصلوں سے متعلق اعلانات کے باعث مالیاتی منڈیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
ٹروتھ سوشل کی مالک کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ وہ امریکی صدر کی ٹروتھ سوشل پوسٹس تک پیشگی رسائی فروخت کرے گی۔ اس سروس کی ماہانہ فیس ایک لاکھ امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے جبکہ تین سال کی پیشگی مدت اختیار کرنے پر یہ فیس 60 ہزار ڈالر ماہانہ ہوگی۔
ٹرمپ اس کمپنی کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں اور ان کے حصص ایک ٹرسٹ کے پاس ہیں جس کی نگرانی ان کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کرتے ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ تجارتی کمپنیاں اس سروس کی ابتدائی صارفین میں شامل تھیں۔
دونوں تنظیموں نے اپنی درخواست میں کہا کہ یہ منصوبہ انتہائی بدعنوان ہے۔ ان کے مطابق صدر ایسی حکومتی معلومات، جو منڈی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، ان افراد کو فراہم کر کے مالی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جو ان کی ذاتی کمپنی کو ادائیگی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
اس منصوبے پر ڈیموکریٹک ارکان کانگریس کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جنہوں نے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے اس سروس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔


