بیروت (لارڈ میڈیا): لبنان کی پارلیمنٹ نے سزائے موت ختم کرنے کے قانون کی منظوری دے دی جس کے بعد لبنان مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں یہ سزا باضابطہ طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ نئے قانون کے تحت سزائے موت کی جگہ عمر قید بامشقت دی جائے گی۔
لبنان کے وزیر انصاف عادل نصار نے پارلیمانی ووٹنگ کے بعد کہا کہ سزائے موت کا خاتمہ لبنان کے لیے ایک تاریخی دن ہے اور اس فیصلے سے لبنان خطے اور عالمی سطح پر اپنی قائدانہ حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قانون کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق لبنان میں آخری مرتبہ 17 جنوری 2004 کو سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے کسی شخص کو سزائے موت نہیں دی گئی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے بھی لبنان کو قانون کی منظوری پر مبارکباد دی اور دنیا کے ان ممالک سے اپیل کی جو اب تک سزائے موت برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ وہ لبنان کی پیروی کرتے ہوئے اس سزا کو ختم کریں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے لبنان کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔


