چنئی (لارڈ میڈیا): بھارتی اداکار اور تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی اہلیہ سنگیتا سورنالنگم نے شوہر سے علیحدگی کے لیے دائر طلاق کا مقدمہ واپس لے لیا ہے، جس کے بعد عدالت نے کیس نمٹا دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنگیتا طلاق کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئیں اور بتایا کہ وہ مزید اس مقدمے کی پیروی نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ وہ وجے سے علیحدگی نہیں چاہتیں۔ سنگیتا کے موقف کے بعد عدالت نے ان کی درخواست واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے مقدمہ ختم کردیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 27 فروری 2026 کو وجے اور سنگیتا کے درمیان علیحدگی کی خبریں بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تھیں۔ بعد ازاں سنگیتا نے فیملی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں سنگیتا نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں اپریل 2021 میں وجے اور ایک خاتون اداکارہ کے مبینہ تعلقات کا علم ہوا۔
ان کے مطابق یقین دہانیوں کے باوجود یہ تعلق ختم نہیں ہوا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ وجے نے انہیں اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی سے بھی دور کرنا شروع کردیا۔ سنگیتا نے اپنی درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ وجے بیرون ملک دوروں اور مختلف عوامی تقریبات کے دوران مذکورہ اداکارہ کے ساتھ دکھائی دیتے رہے اور ان ملاقاتوں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہیں۔
ان کے مطابق وجے نے نہ ان تصاویر کی تردید کی اور نہ ہی ان پر کوئی اعتراض کیا۔ درخواست میں سنگیتا نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ وجے کے رویے اور 2024 میں ان سے متعلق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تنازعات نے انہیں شدید ذہنی صدمے سے دوچار کیا۔ تاہم اب سنگیتا کے اچانک مقدمہ واپس لینے سے اس معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔
عدالت نے موجودہ کیس ختم کردیا ہے، البتہ مستقبل میں اگر سنگیتا دوبارہ طلاق کی درخواست دائر کرنا چاہیں تو اس کا راستہ بدستور کھلا رہے گا۔


