ڈیلاویئر (لارڈ میڈیا) امریکی ریاست ڈیلاویئر کی یونیورسٹی کے محققین نے شارکس پر چھوٹے سینسر نصب کیے ہیں جو سمندر کے درجہ حرارت، نمکیات اور گہرائی کے بارے میں معلومات جمع کر کے سیٹلائٹس کے ذریعے سائنسدانوں کو پہنچاتے ہیں۔ اس ڈیٹا کو سمندری طوفانوں کی بہتر پیش گوئی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف ڈیلاویئر شارکس کو سمندر کے متحرک مشاہدہ کاروں کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جس سے سمندر کی بدلتی صورت حال کا ریئل ٹائم ڈیٹا جمع کر کے ماحولیاتی اور موسمیاتی ماڈلز کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
پروفیسر آرون کارلائل کے مطابق جانوروں پر نصب سینسر پہلے بھی کامیابی سے استعمال ہو چکے ہیں، اور شارکس کو ان کے وسیع سمندری علاقے میں حرکت کی وجہ سے تحقیق کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
شمالی بحر اوقیانوس میں کئے گئے سابقہ تجزیوں میں شارٹ فِن ماکو، بلیو شارک، اور اسموتھ ہیمر ہیڈ کو اس تحقیق کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔
محققین کی خاص توجہ سمندر کی اوپری تہہ میں موجود حرارت پر ہے، جو سمندری طوفان کی شدت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
شارکس کی ٹیگنگ کا عمل مئی میں شروع ہوتا ہے اور محققین ایک تحقیقی جہاز پر ساحل سے تقریباً 50 سے 65 کلومیٹر دور جاتے ہیں۔
شارک پر ٹیگ لگانے کا عمل جانوروں کی فلاح و بہبود کے اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے اور ہر شارک کو واپس سمندر میں چھوڑنے سے پہلے اس کی صحت بھی جانچی جاتی ہے۔
اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو یہ ڈیٹا امریکی مشرقی ساحل کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفانوں کی شدت کی پیش گوئی بہتر بنا سکتا ہے۔


