ہومتازہ ترینڈاکٹر آصف محمود امریکی مذہبی آزادی کمیشن کے چیئرمین بن گئے

ڈاکٹر آصف محمود امریکی مذہبی آزادی کمیشن کے چیئرمین بن گئے

واشنگٹن (لارڈ میڈیا): پاکستانی امریکن ڈاکٹر آصف محمود کو امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایک امریکن پاکستانی کو اس اہم عہدے پر منتخب کیا گیا ہے، اور وہ پہلے جنوب ایشیائی بھی ہیں جنہوں نے یہ عہدہ سنبھالا ہے۔

ڈاکٹر آصف محمود نے دوسری مدت کے لیے یو ایس سی آئی آر ایف کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی تقرری مئی 2026 میں ہوئی تھی، اور ان کی مدت 14 مئی 2028 تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ ایک بڑا اعزاز ہے کہ وہ پہلے پاکستانی، مسلمان اور ایشیائی ہیں جو اس عہدے پر فائز ہوئے۔

امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی ایک اہم ادارہ ہے جس کی سفارشات پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر آصف محمود کی تقرری اقلیتی پارٹی کے لیڈر حکیم جیفریز کی جانب سے کی گئی ہے۔ ان کی تقرری کو غیر معمولی اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر آصف محمود نے بھارت میں اقلیتوں کے مظالم پر تنقید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو مذہبی آزادی کی پامالی پر تشویش کا حامل ملک قرار دیا جائے۔ ان کی رپورٹ میں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں پر پابندیاں لگانے کی سفارش بھی کی گئی تھی۔

وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ بھی منسلک ہیں اور کلنٹن فیملی اور کاملا ہیریس کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے 2022 میں کانگریس کے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ ڈاکٹر آصف محمود انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں اور انہوں نے کبھی فیس کا مطالبہ نہیں کیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں