اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے ایک سرکاری یونیورسٹی میں ہراسیت کے مقدمے کی اپیل پر خاتون افسر کے خلاف عائد بنیادی سزا برقرار رکھی ہے۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ کسی ملازم کو دھمکیاں دینا، دباؤ ڈالنا اور خوف کی فضا پیدا کرنا بھی ہراسیت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
کیس کے مطابق، شکایت کنندہ رجسٹرار نے دعویٰ کیا کہ خاتون افسر نے انہیں پسندیدہ عہدے پر تعیناتی نہ ہونے پر دھمکیاں دیں۔ انہوں نے رجسٹرار کی ویڈیوز جاری کرنے اور جھوٹا ہراسیت کیس درج کرانے کی دھمکی دی۔
رجسٹرار نے گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کی اور انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش کی، جس نے خاتون افسر کو قصوروار قرار دیا۔ خاتون افسر نے بعد ازاں اپنے طرزِ عمل پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے تحریری معذرت نامے جمع کرائے۔
انکوائری کمیٹی نے خاتون افسر کو عہدہ کم کرنے اور ترقی پر پابندی کی سزا سنائی، تاہم وفاقی محتسب نے تاحیات پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کردیا۔


