تہران (لارڈ میڈیا): امریکا کے ساتھ مسلط جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں اراکین نے امریکا سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے اور مفاہمتی یادداشت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں 180 اراکین نے بیان جاری کیا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ختم کی جائے اور نیا راستہ اختیار کیا جائے۔
چار ماہ کے دوران یہ پہلا اجلاس تھا جس میں ضوابط میں ترامیم بھی منظور کی گئیں جن کے تحت ہنگامی حالات میں ورچوئل اجلاس ممکن ہوں گے۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک منیجمنٹ سے متعلق بل بھی پیش کیا گیا اور مسلح افواج کی مکمل حمایت کرنے کا عہد کیا گیا۔
پارلیمنٹ کے 290 رکنی ایوان میں 180 اراکین انتقام کی نشانی کے طور پر سرخ پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ اجلاس میں خصوصی مذاکراتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔


