اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ میں چین کے ایک سفارتکار نے یمن کے صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ زدہ ملک میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے کہا کہ چین تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بردباری سے کام لیں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔
سن لی نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ہمیشہ اس موقف پر قائم رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے تمام ممالک، بشمول یمن کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے، اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کی جانی چاہیے اور شہریوں، انسانی امدادی کارکنوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔”
سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیاری نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق حوثی وفد کو لے جانے والا ایک ایرانی طیارہ صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی حملوں کے بعد حوثیوں کے زیر کنٹرول الحدیدہ ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ صنعا ہوائی اڈے پر حملے سعودی عرب نے کئے اور ریاض کے ساتھ ’’کشیدگی میں کمی کے مرحلے کے خاتمے‘‘ کا اعلان کیا۔
سن لی نے کہا کہ یمن کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ حالیہ دنوں میں خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے انتظام کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق مخاصمت کا دوبارہ آغاز کسی کے مفاد میں نہیں اور فوجی ذرائع سے مسائل حل نہیں کئے جا سکتے۔
سن لی نے کہا کہ ’’امریکہ اور ایران کو چاہیے کہ وہ اپنے دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت پر دیانت داری سے عمل کریں، دھمکی آمیز بیانات اور طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور ایسی دشمنی اور تنازع کا جلد خاتمہ کریں جسے کبھی جنم ہی نہیں لینا چاہیے تھا۔‘‘
چینی مندوب نے مزید کہا کہ یمن کے مسئلے سے متعلق تمام فریق ایسے کسی بھی اقدام سے اجتناب کریں جو صورتحال کو مزید خراب کرے یا باہمی اعتماد کو نقصان پہنچائے تاکہ نئے تنازعات کو روکا جا سکے۔


