ہائیکو (شِنہوا) چین کے جنوبی جزیرہ صوبے ہائی نان نے 2030 تک پٹرول و ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے ساتھ وہ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی جانب ملک کی منتقلی میں پیش پیش ہوگا۔
2026 سے 2030 تک ماحولیاتی تہذیب کے قومی نمائشی زون کی تعمیر کے صوبائی منصوبے کے مطابق 2030 تک ہائی نان میں نجی استعمال کی تمام نئی یا تبدیل کی جانے والی گاڑیوں جبکہ عوامی خدمات اور تجارتی شعبے میں شامل نئی یا متبادل گاڑیوں کو لازماً نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں ہونا ہوگا۔ تاہم خصوصی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیاں اس شرط سے مستثنیٰ ہوں گی۔
حال ہی میں جاری ہونےوالےمنصوبے کے مطابق اس وقت تک ہائی نان میں مجموعی گاڑیوں کے بیڑے میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا تناسب 2025 کے 23.75 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ صوبہ چارجنگ انفراسٹرکچر کے نیٹ ورک کو بھی مزید بہتر بنائے گا جبکہ گاڑیوں اور چارجنگ پائلز کا تناسب 2.5 گاڑیاں فی ایک چارجنگ پائل سے کم رکھا جائے گا۔
ہائی نان نے پہلی بار 2018 میں 2030 تک روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت پر پابندی کا ہدف پیش کیا تھا اور اس طرح ایسے ہدف کا اعلان کرنے والا چین کا پہلا صوبائی سطح کا علاقہ بن گیا تھا۔ تازہ ترین منصوبے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ صوبہ اس ہدف کو بتدریج اور مستقل طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔
صوبہ ہائی نان کے صنعت و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے محکمے نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک ہائی نان میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کی رسائی کی شرح 67.14 فیصد تک پہنچ گئی تھی، یعنی اس جزیرہ صوبے میں رجسٹر ہونے والی ہر3 نئی گاڑیوں میں سے 2 نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں تھیں۔گزشتہ 5 برس کے دوران نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی مارکیٹ رسائی اور مجموعی گاڑیوں کی ملکیت میں ان کے تناسب کے لحاظ سے ہائی نان نے بالترتیب ملک بھر میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔
نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی جانب یہ تیز رفتار منتقلی صوبے کے توانائی کے ڈھانچے میں آنے والی تبدیلی کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ جون 2026 کے اختتام تک ہائی نان میں نئی توانائی، بالخصوص شمسی فوٹو وولٹک اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت، صوبے کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 50.1 فیصد ہو چکی تھی۔


