2026 چائنہ اسمارٹ انرجی کانفرنس جمعرات سے ہفتے تک چین کے جنوب مغربی شہر چھنگ دو میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس میں حکومت، صنعت اور تحقیقی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے جنہوں نے مصنوعی ذہانت اور توانائی کے امتزاج، اسمارٹ توانائی کی ترقی اور توانائی کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): حسین عابد، ماہرِ معاشیات، انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ، نیپال
’’یہ فورم درحقیقت چین کی نئی ٹیکنالوجیز سے سیکھنے کے لئے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ اسمارٹ ٹیکنالوجیز اور توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے چین بہت آگے ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): کیوی علی وارگا، یو ایم جی آئیڈیالیب، انڈونیشیا
’’آج سب سے نمایاں چیز مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال ہے۔ چین میں اس کا استعمال انتہائی وسیع پیمانے پر ہو رہا ہے۔ ہر شخص اور ہر کمپنی مصنوعی ذہانت پر بات بھی کر رہی ہے اور عملی طور پر اسے مختلف سطحوں پر اپنا بھی رہی ہے ۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): انجینئر اسد محمود، پاکستان
’’میں ٹیکنالوجی کے مقامی سطح پر فروغ یا ٹیکنالوجی کی منتقلی پر یقین رکھتا ہوں۔ اگر چینی شراکت دار دستیاب ہوں تو میری دلچسپی صرف درآمدات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ میں یہ دیکھنا چاہوں گا کہ ہم مشترکہ طور پر پیداوار کیسے شروع کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں ہم طویل مدتی بنیادوں پر مل کر کام کر سکتے ہیں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): ولادیسلاو زایادسکی، ماہرِ توانائی، قازقستان
’’آج کل لوگ مصنوعی ذہانت پر بہت زیادہ بات کر رہے ہیں۔لیکن اس کا ایک نہایت اہم پہلو قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی بھی ہے۔ مستحکم بجلی کے بغیر نہ ڈیٹا سینٹرز قائم کئےجا سکتے ہیں اور نہ ہی مصنوعی ذہانت کی صنعت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں چین ونڈ ٹربائنز، شمسی پینلز اور شمسی فوٹو وولٹائک مصنوعات کے بڑے سپلائرز میں سے ایک ہے۔ یہ تعاون، تجارت، مشترکہ ترقی اور باہمی مفاد پر مبنی حل کا معاملہ ہے۔‘‘
چھنگ دو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


