کراچی (لارڈ میڈیا): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آٹے کی امدادی قیمت وفاقی حکومت کی ہدایت پر طے کی گئی، جس کی وجہ سے آٹے کا بحران پیدا ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی قیمت کم ہونے کی وجہ سے کم خریداری ہوئی۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں سے قانون کے مطابق گندم خریدی جائے گی اور 3 ہزار روپے فی من کے حساب سے خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وزیراعظم بھی آٹے اور گندم بحران پر اجلاس کر رہے ہیں اور سندھ حکومت کو گندم خریداری کو ریگولیٹ نہیں کرنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سندھ میں کیٹی بند پر نئی بندرگاہ بنے گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارا ملک دہشت گردی کی لہر کی زد میں ہے اور دہشت گردوں کا ہدف کراچی ہے، ہم کراچی کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دہشت گردوں کو سر اٹھانے نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورت حال پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور وہاں کے لوگ پاکستان سے مخلص ہیں۔


