ہومتازہ ترینوزیر خزانہ کو ایس ای سی پی کی بریفنگ، کمپنی رجسٹریشن میں...

وزیر خزانہ کو ایس ای سی پی کی بریفنگ، کمپنی رجسٹریشن میں ریکارڈ پیش رفت

اسلام آباد (لارڈ میڈیا) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو ایس ای سی پی حکام نے ادارے کی کارکردگی اور جاری اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوری 2026 سے اب تک 18 ہزار 57 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کی جا چکی ہیں جبکہ ملک میں ریکارڈ ایک لاکھ 9 ہزار 878 پوسٹ انکارپوریشن پراسیس مکمل کیے گئے ہیں۔

ایس ای سی پی نے مختلف شعبوں کے لیے 149 نئے لائسنس بھی جاری کیے ہیں۔ اجلاس میں ان لسٹڈ کمپنیوں کے مینوئل شیئرز کو ڈیجیٹل بک انٹری فارم میں تبدیل کرنے، مرکزی یو بی او رجسٹری پورٹل کی تکمیل اور کمپنیوں کی جانب سے آن لائن معلومات جمع کرانے کے آغاز کی معلومات فراہم کی گئیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمپنیوں کی رجسٹریشن کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعارف کرانے پر کام جاری ہے جبکہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں بزنس فیسیلیٹیشن سینٹرز بھی قائم کیے جائیں گے۔

بریفنگ کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں چینی کنسورشیم کے مسائل حل کیے جانے اور پی ایس ایکس کے رئیل اسٹیٹ اثاثوں کی ڈی مرجر اسکیم کی مشروط منظوری کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔

سہولت اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری کی حد 10 لاکھ سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، کیپیٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور جنوری 2026 سے اب تک 10 کمپنیوں کے ابتدائی عوامی شیئرز کی منظوری دی جا چکی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ایپ کے ذریعے سونے کی تجارت کے لیے آسان انٹرفیس تیار کیا جا رہا ہے جبکہ میوچل فنڈ سرمایہ کاروں کے لیے ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنے اور تصدیقی عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پرائم منسٹر اپنا گھر پروگرام کے تحت نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کو مالیاتی اداروں کا درجہ دیا گیا ہے۔ خواتین کے کاروبار کے فروغ کے لیے پہلی ڈیجیٹل شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ پروڈکٹ "خودمختار خاتون” لانچ کر دی گئی ہے۔

شریعہ اسکریننگ فریم ورک کو مزید سخت کرتے ہوئے قرض اور اثاثوں کا تناسب 37 فیصد سے کم کر کے 33 فیصد مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ بروکرز کو شریعہ کمپلائنٹ ونڈو آپریشنز کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کا نفاذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت حادثے کے شکار افراد کے معاوضے کی حد 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ انشورنس پالیسیاں 11 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں