ہومتازہ ترینچین میں جاپانی جارحیت کے خلاف مزاحمتی جنگ کی 89 ویں سالگرہ...

چین میں جاپانی جارحیت کے خلاف مزاحمتی جنگ کی 89 ویں سالگرہ پر تقریبات

بیجنگ/تائی پے (شِنہوا) چین نے منگل کے روز جاپانی جارحیت کے خلاف پوری قوم کی مزاحمتی جنگ کے آغاز کی 89 ویں سالگرہ منائی۔ اس موقع پر امن کے لئے گھنٹیاں بجائی گئیں اور جاپان کے دوبارہ عسکریت پسندی کی جانب بڑھتے رجحان کے خلاف انتباہ کیا گیا۔

اگرچہ چین کے خلاف جاپانی جارحیت کا آغاز 1931ء کے اوائل میں ہی ہو چکا تھا لیکن 1937ء میں پیش آنے والے "7 جولائی کے واقعے” جس میں جاپانی افواج نے بیجنگ کے مضافات میں چینی چھاؤنی پر حملہ کیا تھا، نے جاپانی جارحیت کو ایک مکمل حملے میں بدل دیا اور چین کی ملک گیر مزاحمت کا آغاز ہوا۔

ملک بھر میں منعقد ہونے والی یادگاری تقریبات کے دوران چینی حکام اور ماہرین نے اس قومی یادگار کی موجودہ دور میں اور خاص طور پر جاپان کے حالیہ اشتعال انگیز اقدامات کے تناظر میں اہمیت پر زور دیا۔ ان اقدامات میں مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر عائد پابندیوں میں نرمی اور اس بات کا کھلے عام عندیہ دینا شامل ہے کہ اگر تائیوان سے متعلق کوئی "ہنگامی صورتحال” پیدا ہوتی ہے تو جاپان فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔ تائیوان وہ خطہ ہے جس پر جاپان نے تقریباً نصف صدی تک نوآبادیاتی حکمرانی کی تھی۔

بیجنگ میں چینی عوام کی جاپانی جارحیت کے خلاف مزاحمتی جنگ کے عجائب گھر، جو لوگو پل کے قریب واقع ہے اور جہاں 89 سال قبل یہ واقعہ پیش آیا تھا، میں ایک یادگاری تقریب منعقد ہوئی۔

تقریب کی صدارت کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور سی پی سی بیجنگ میونسپل کمیٹی کے سیکرٹری ین لی نے کی۔ شرکاء نے جاپانی جارحیت کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پھول چڑھائے اور تعظیم میں سر جھکایا۔

ملک بھر میں طلبہ نے اس تاریخی واقعے سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے عجائب گھروں کا رخ کیا، جبکہ عوام نے مختلف یادگاری مقامات پر پھول رکھ کر شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ نان جنگ میں جاپانی حملہ آوروں کے ہاتھوں نان جنگ قتل عام کے متاثرین کی یادگار پر امن کی گھنٹی بجائی گئی۔

تائیوان میں بھی منگل کے روز مختلف یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ تاؤیوآن میں متعدد سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام ہونے والی ایک تقریب کے منتظمین نے کہا کہ جاپانی جارحیت کے خلاف مشترکہ مزاحمت کی تاریخ نہ صرف چینی قوم کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے بلکہ جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف تائیوان کی تاریخ کا بھی ایک اہم باب ہے، جو دونوں کناروں کے درمیان امن اور باہمی اعتماد کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے تائیوان کے معاشرے پر زور دیا کہ وہ تاریخی حقائق کا تحفظ کرے، تائیوان کے عوام کی نوآبادیاتی حکمرانی اور غیر ملکی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی تاریخ کو مکمل طور پر اجاگر کرے اور نوآبادیاتی دور کی تعریف یا سیاسی مقاصد کے لئے تاریخ کو مسخ کرنے کی ہر کوشش کی مخالفت کرے۔

جاپانی جارحیت کے خلاف 14 سالہ مزاحمتی جنگ جدید دور میں چینی عوام کی جانب سے غیر ملکی جارحیت کے خلاف لڑی جانے والی سب سے طویل اور سب سے بڑی جنگ تھی۔ اس جنگ میں چین نے بے پناہ قربانیاں دیں، فوجی اور شہری آبادی سمیت تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، جس کے بعد بالآخر 1945 میں جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے۔

جاپانی عسکریت پسندوں نے چین میں بے شمار مظالم ڈھائے، جن میں نان جنگ قتل عام، بڑے پیمانے پر انسانی تجربات اور جراثیمی جنگ شامل ہیں۔ یہ سب واقعات چینی عوام کی اجتماعی یادداشت پر گہرے اور انمٹ زخم چھوڑ گئے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں