ٹورنٹو (لارڈ میڈیا): کینیڈا کے تحقیقاتی ادارے سیٹیزن لیب نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن اسٹیلیوس کولوگلو اسرائیلی ساختہ پیگاسس سپائی ویئر کے ذریعے ہیکنگ کا نشانہ بنے۔ اس انکشاف نے دنیا بھر میں نگرانی کے جدید سافٹ ویئر کے استعمال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سیٹیزن لیب کی رپورٹ کے مطابق، یونانی سابق رکن پارلیمنٹ اسٹیلیوس کولوگلو کا فون اکتوبر 2022 سے مارچ 2023 کے درمیان پیگاسس سپائی ویئر سے کم از کم تین بار ہیک کیا گیا۔ یہ سافٹ ویئر اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کی جانب سے تقسیم کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیکنگ کے وقت کولوگلو یورپی پارلیمنٹ کی پیگا کمیٹی کے رکن تھے، جو فون ہیکنگ کی تحقیقات کرتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پیگا کمیٹی کے رکن ہونے کے باوجود ان کا فون ہیک ہونا باعث حیرت ہے۔
سیٹیزن لیب نے پیگاسس استعمال کرنے والے فریق کا تعین نہیں کیا، لیکن رپورٹ میں اشارہ دیا گیا کہ اس کا تعلق ان واقعات سے ہو سکتا ہے جہاں جلاوطن صحافیوں کی نگرانی ہوئی تھی۔
ایپل نے اس سکیورٹی نقص کو بعد میں اپڈیٹ کے ذریعے دور کر دیا تھا۔ کمپنی نے صارفین کو ممکنہ ہیکنگ کے خطرے سے متعلق خبردار کیا تھا۔
یورپی پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ وہ سائبر حملوں کی نگرانی کرتے ہیں اور اراکین کو سکیورٹی ٹولز فراہم کرتے ہیں۔
این ایس او گروپ نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ کمپنی پر غیر قانونی نگرانی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
امریکہ نے انسانی حقوق کے خدشات کی بنا پر 2021 میں این ایس او گروپ کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ میٹا نے این ایس او کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ جیتا تھا۔


