اسلام آباد (لارڈ میڈیا): دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے پاکستان کے لیے پانی روکنے کی کوششوں کے دور رس نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پانی کی روک تھام کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور یہ ممکنہ طور پر جنگی اقدام کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔
بھارت کے وزیر توانائی سی آر پٹیل نے کہا ہے کہ پاکستان کو پانی کی فراہمی روک دی جائے گی، جس پر پاکستان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی ذمہ داریوں اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگی۔
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے اور بھارت غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اس پر توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ کشمیر سے متعلق بھارتی بیانات کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ صومالیہ میں قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ حکومت پاکستان صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقین سے رابطے میں ہے۔
پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین کو جنگ بندی معاہدوں کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔ پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کی ہے۔


