ہومپاکستانجنگ و آپریشن مسائل کا حل نہیں، افغانستان کیساتھ مذاکرات ہی آگے...

جنگ و آپریشن مسائل کا حل نہیں، افغانستان کیساتھ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا موثر راستہ ہے، سہیل آفریدی

وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ جنگ و آپریشن مسائل کا حل نہیں، افغانستان کیساتھ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا موثر راستہ ہے، انٹرمیڈیٹ سطح پر یتیموں، طالبات کو مفت تعلیم فراہمی کیلئے ایجوکیشن کارڈ متعارف کرایا ہے، مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق نصاب و کورسز میں اصلاحات کررہے ہیں۔

بدھ کو وزیراعلی سہیل آفریدی سے یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعاون سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر وزیر برائے اعلی تعلیم مینا خان آفریدی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور یورپی یونین کے حکام بھی موجود تھے۔

وزیراعلی نے یورپی وفد کا خیر مقدم کیا اور سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام میں یورپی یونین کے تعاون کو سراہا۔

وزیراعلی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہزاروں سال پر محیط مشترکہ تاریخ اور ثقافتی رشتے موجود ہیں، افغانستان کی جنگ کے اثرات سے خیبر پختونخوا کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے سب سے بڑے سیاسی رہنما ہیں جن کا موقف واضح ہے کہ جنگ اور فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں، موجودہ صورتحال کی وجہ سے خیبر پختونخوا کا افغانستان کیساتھ سالانہ 10ارب روپے سے زائد کا تجارتی حجم شدید متاثر ہوا ہے، افغانستان کے ساتھ معاملات میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا موثر راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق نصاب اور کورسز میں اصلاحات کر رہی ہے، عمران خان کے وژن کے مطابق نوجوانوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں تعلیم کا بجٹ کئی گنا بڑھایا گیا ہے ،تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

انٹرمیڈیٹ سطح پر یتیموں اور طالبات کو مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے ایجوکیشن کارڈ متعارف کرایا گیا ہے۔

اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور ووکیشنل سکلز ترجیحی شعبہ جات ہیں، سینٹر آف ایکسی لینس مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایک جدید ماڈل ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں