امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم اور جنگ بندی کرانے کی کوششوں میں پاکستان کا ثالثی کردار مضبوط نظر آیا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پس پردہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں گفتگو کرتے ہوئے پہلی بار تصدیق کی کہ ایران کیساتھ سفارتی کوششوں میں وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس براہِ راست شامل ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مارچ کے اختتام سے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کی قیادت کر رہا ہے، پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جے ڈی وینس، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کئے جن کا مقصد جنگ روکنے کیلئے دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ تیار کرنا تھا، امریکی وفد دو مرتبہ اسلام آباد آنے کے قریب تھا مگر ایران نے اندرونی مشاورت کیلئے مزید وقت مانگتے ہوئے ملاقات موخر کر دی۔
میڈیا کے مطابق تہران جے ڈی وینس کو دیگر امریکی شخصیات کے مقابلے میں زیادہ قابلِ قبول سمجھتا ہے، اسکی دو بڑی وجوہات بتائی جا رہی ہیں جن میں جے ڈی وینس کی جانب سے ماضی میں ایران کیخلاف جنگ کی مخالفت کرنا اور ماضی میں اِن مذاکرات میں شامل نہ ہونا شامل ہے جن کے دوران ہی امریکا نے ایران پر اسرائیل کیساتھ مشترکا حملہ کر دیا تھا جسے ایران اعتماد شکنی قرار دیتا ہے۔
ایرانی ماہر جواد حیران نیا کے مطابق ایران کے اندرونی سیاسی حالات اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد طاقت کے توازن میں تبدیلی نے بھی مذاکرات کو حساس بنا دیا ، جے ڈی وینس کی سفارتی سرگرمیوں کو امریکا کی اندرونی سیاست سے بھی جوڑا جا رہا ہے، اِنہیں 2028 کے صدارتی انتخاب کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور جنگ ختم کروانے میں کردار اِنکی سیاسی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔


