ہومتازہ ترینچینی معیشت کا استحکام اور ترقی کے نئے محرکات کے ساتھ نئے...

چینی معیشت کا استحکام اور ترقی کے نئے محرکات کے ساتھ نئے 5 سالہ منصوبے کا آغاز

بیجنگ (شِنہوا) چینی حکام نے کہا ہے کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی مستحکم اقتصادی ترقی نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی مضبوط لچک اور ترقی کے نئے محرکات کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کیا کیونکہ ملک نے اپنے نئے 5 سالہ ترقیاتی دور کا آغاز کیا ہے۔

قومی ادارہ شماریات (این بی ایس) کے مطابق بیرونی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باوجود 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) گزشتہ سال کی نسبت 4.7 فیصد بڑھ کر 696 کھرب یوآن (تقریباً 102.5 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی۔

این بی ایس کے عہدیدار وانگ گوان ہوا نے شِنہوا نیوز ایجنسی کے زیر اہتمام آل میڈیا ٹاک شو "چائنہ اکنامک راؤنڈ ٹیبل” کے تازہ ترین پروگرام میں کہا کہ ” مشکل حالات میں حاصل کی گئی یہ کامیابیاں رواں سال کے اقتصادی و سماجی ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں اور 15ویں 5سالہ منصوبے (2026-2030) کے آغاز کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔”

حکام کے مطابق جب متعدد بین الاقوامی ادارے بڑی معیشتوں کی اقتصادی ترقی کے اپنے تخمینے کم کر رہے ہیں، ایسے میں چین کی پہلی ششماہی کی کارکردگی اس کی معیشت کے حجم کے پیش نظر خاص طور پر قابل توجہ رہی۔

قومی ترقی و اصلاحات کمیشن (این ڈی آر سی) کے عہدیدار یانگ تے نے کہا کہ یہ کارکردگی رواں سال کے تقریباً 4.5 سے 5 فیصد اقتصادی ترقی کے ہدف کے مطابق ہے اور اس نے چین کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل رکھا ہے۔

یانگ نے مزید بتایا کہ 4.7 فیصد کی شرح نمو کے نتیجے میں صرف 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران اقتصادی پیداوار میں 36 کھرب یوآن کا اضافہ ہوا، جو یورپ کی ایک درمیانے درجے کی معیشت کی سالانہ مجموعی ملکی پیداوار کے برابر ہے۔

قومی ادارہ شماریات کے مطابق مجموعی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں سروے شدہ بے روزگاری کی شرح جون میں 5.1 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گئی، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں فی کس قابل تصرف آمدنی میں گزشتہ سال کی نسبت 5.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں